بائیس مارچ پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے

0
382

بائیس مارچ پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے
پانی کا عالمی دن اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے ماحولیات و ترقی کی تصدیق کے بعد1993 میں پہلی بار 22 مارچ کو منایا گیا، اس کا مقصد دنیا بھر میں پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اوراس کی بڑھتی ہوئی کمی کا احساس دلانا تھا اس سال اس دن کو پانی اور گندے پانی کے عنوان پر منایا جارہا ہے۔
پانی کے عالمی دن کے حوالے سے ماہرین ماحولیات کے مطابق گلوبل وارمنگ کے باعث دنیا بھر میں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سمندر کی سطح بلند اور پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہورہی ہے پاکستان کی85 فیصد شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اس وقت دنیا میں 900 ملین سے زائد انسان ایسے ہیں جوکہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں پاکستان جو کبھی بڑی مقدار میں آبی وسائل سے مالا مال تھا آج پانی کے شدید کمی کا شکار ہے ملک کی آبادی20 کروڑ تک پہنچ چکی ہے کثیر آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں

بائیس مارچ اٹھارہ سو اٹھاسی فٹبال لیگ کا قیام عمل میں آیا

مارچ بائیس 2008 اسرائیل نے تلکرم کا کنٹرول فلسطین کے حوالے کیا

بائیس مارچ انیس سو چھیالیس کو برطانیہ نے اردن کو آزادی دینے کے لئے معاہدے پر دستخط کیے
اردن جسے سرکاری طور پر (عربی: المملکۃ الأردنیۃ الہاشمیۃ) بھی کہا جاتا ہے، دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا کا ملک ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی عرب اور مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔ اردن اور اسرائیل بحیرہ مردار کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اردن کی واحد بندرگاہ اس کے جنوبی سرے پر خلیج عقبہ پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کو اسرائیل، مصر اور سعودی عرب بھی مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اردن کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما زرخیز علاقہ موجود ہے۔ اس کا دارلحکومت عمان ہے۔
تاریخی اعتبار سے یہاں بہت ساری تہذیبیں آباد ہوتی رہی ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے اردن پر مصری فرعونوں کا بھی قبضہ رہا ہے جو عظیم تر اسرائیلی مملکت کے حصے پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ یہاں مقدونیائی، یونانی، رومن، بازنطینی اور عثمانی ثقافتوں کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ 7ویں صدی عیسوی سے یہاں مسلمانوں اور عربوں کی ثقافت کے اثرات گہرے ہونے لگے ہیں۔
ہاشمی بادشاہت یہاں کی آئینی بادشاہت ہے اور یہاں عوام کی نمائندہ حکومت بھی کام کرتی ہے۔ حکمرانِ وقت ملک کا بادشاہ ہوتا ہے جو ملکی افواج کے سپہ سالار کا کام بھی کرتا ہے۔ بادشاہ اپنے اختیارات کو وزیرِ اعظموں اور وزراء کی کونسل یا کابینہ کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ کا

SHARE

LEAVE A REPLY