افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل پندرہویں برس بھی جاری رہا۔ 26 مارچ 2016کو افغان صوبے ہلمند میں امریکی فضائی کارروائی کے نتیجے میں73 طالبان ارکان کی ہلاکت کی خبر آئی۔

چھبیس مارچ اٹھارہ سو بارہ وینز ویلا کے دارالحکومت کیراکاس میں شدید زلزلے سے بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے

چھبیس مارچ انیس سو اکہتر بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بنا
بنگلہ دیش (باضابطہ نام: عوامی جمہوریہ بنگلا دیش) جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ میانمار کے ساتھ مختصر سی سرحد کے علاوہ یہ تین اطراف سے بھارت سے ملا ہوا ہے اور جنوب میں اس کی سرحدیں خلیج بنگال سے ملتی ہیں۔ بھارت کی ریاست کو ملاکر بنگالی اسے اپنا نسلی وطن کہتے ہیں۔ بنگلا دیش کا مطلب ہے “بنگال کا ملک”۔
بنگلا دیش کی موجودہ سرحدیں 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر وجود میں آئیں جب یہ پاکستان کے مشرقی حصے کے طور پر برطانیہ سے آزاد ہوا۔ پاکستان کے دونوں مشرقی و مغربی حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر (ایک ہزار میل) کا فاصلہ حائل تھا۔ مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود پاکستان کے دونوں بازوؤں میں نسلی و لسانی خلیج بڑھتی گئی، جسے مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش حکومت نے مزید وسیع کر دیا جو بالآخر 1971ء میں ایک خونی جنگ کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں بنگلا دیش کا قیام کا سبب بنی۔ اس جنگ میں بنگلا دیش کو بھارت کی مکمل مدد حاصل رہی۔
بنگلا دیش اپنے قیام سے مستقل سیاسی افراتفری کا شکار ہے اور اب تک 13 مختلف حکومتیں برسر اقتدار آ چکی ہیں اور کم از کم چار فوجی تاخت (مارشل لا) ہو چکے ہیں۔
بنگلا دیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور تقریباًً 144،000 مربع کلومیٹر کے ساتھ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 94 واں ملک ہے،ہ دنیا کا گنجان آباد ترین آبادی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے بلکہ اگر چھوٹے موٹے جزائر یا شہری حکومتوں کو فہرست سے نکال دیا جائے تو یہ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد ملک بن جاتا ہے جس کے ہر مربع کلومیٹر پر 998.6 (یا ہر مربع میل پر 2،639 افراد) بستے ہیں۔ یہ تیسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کی آبادی ہندوستان میں مقیم اقلیتی مسلمانوں سے کچھ کم ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ دریائے گنگا و برہم پتر کے زرخیز دہانوں (ڈیلٹا) پر واقع ہے۔ مون سون کی سالانہ بارشوں کے باعث یہاں سیلاب اور طوفان معمول ہیں۔ بنگلا دیش جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اور
BIMSTEC
کا بانی رکن اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) اور ترقی پذیر 8 (ڈی -8) کا رکن ہے۔

چھبیس مارچ انیس سو چھیانوے عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف)نے روس کے لئے دس اعشاریہ دو بلین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی

SHARE

LEAVE A REPLY