اسماعیل ھنیہ سمیت حماس کی قیادت کوشہید کرنے کی اسرائیلی دھمکی

0
341

مرکزاطلاعات فلسطین
اسرائیل کے انتہا پسند وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی مرکزی قیادت کو قاتلانہ حملوں میں شہید کرنے کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت حماس کو کچلنے کے لیے گذشتہ ایک سال سے نئی حکمت عمل مرتب کررہی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ حماس کی صف اول کی قیادت ہمارے نشانے پر ہے اور ہم حماس کے بڑے بڑوں کو کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے حماس کے سینیر رہ نما اسماعیل ھنیہ سمیت دیگر مرکزی قائدین کو قاتلانہ حملوں میں شہید کرنے کی دھمکی دی۔

لائبرمین کا یہ بیان اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 نے نقل کیا ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق لائبرمین کا کہنا ہے کہ جون 2016ء کے بعد سے حکومت حماس کو کچلنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی غزہ کے بارے میں ہماری پالیسی کو دیکھنا چاہتا ہے ہم اسے بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہماری پالیسی ذمہ دارانہ، ناقابل تغیر اور مضبوط ارادوں پر مبنی ہے۔

عبرانی ٹی وی کے مطابق لائبرمین نے یہ بیان غزہ سے فلسطینی علاقوں تک کھودی گئی 15 سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ سے سنہ 1948ء کے علاقوں میں کسی سرنگ کی موجودگی کا سراغ نہیں ملا۔ اگر ایسی سرنگیں کھودی گئی ہیں تو بھی ان کی تعداد بہت کم ہوگی۔

لائبرمین سے پوچھا گیا کہ آپ نے کہا تھا کہ وزارت دفاع کا عہدہ سنھبالنے کے بعد حماس کے سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر قاتلانہ حملے میں شہید کیاجائے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ھنیہ سمیت اسرائیل کے دشمن عناصر کو کسی بھی وقت ‘ہٹ‘ کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع سے دو روز قبل غزہ میں نامعلوم افراد کے حملے میں حماس کے ایک لیڈر کے قتل کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، تاہم اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں لائبرمین کا کہنا تھا کہ ہرچیز کا حل صرف طاقت کا استعمال نہیں ہوتا۔ ہمیں عقل اور طاقت دونوں کا ایک ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ میں اپنے الفاظ دہراتا ہوں کہ ’ ذمہ داری، مضبوط ارادے، یقین، طاقت اور عقل کا ایک ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔

اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں پر یہودی کالونیوں کے قیام کا اسرائیل کا کوئی ارادہ نہیں۔ غزہ کی پٹی کے حالات کی ذمہ داری عالمی برادری کو حماس پر عاید کرنی چاہیے نا کہ اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے۔

لائبرمین نے کہا کہ حماس نے گزہ کو دہشت گرد علاقہ بنا دیا ہے۔ اس کا ہدف اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانا ہے۔ جو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا پروگرام بنائے وہم سے بھی ایسے ہی رد عمل کی توقع رکھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY