سپریم کورٹ کے احکامات پھر نظرانداز کردئیے گئے۔ قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کے حکم کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے بیورو میں اعلیٰ افسران کی متنازع تعیناتیاں کردیں۔
گریڈ 20 کے افسر ناصر اقبال کو ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا ہے۔ انہیں 8 مارچ کواِن لینڈ ریوینیو سروس میں شامل کیا گیا جہاں وہ گریڈ 20 کے افسر تھے لیکن انہیں 13 مارچ کو ہی گریڈ 21 میں ترقی دے کر نیب راولپنڈی ریجن کا ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا۔
یہ عہدہ نہایت اہم ہے جہاں سے بیشتر میگا کرپشن اسکینڈلز تحقیقات کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ ڈی جی سکھر محمد الطاف باوانے کے حوالے سے بھی خدشات ہیں کہ ان کا تقرر مطلوبہ تجربے کے مطابق نہیں ہے۔
انہیں 2013 میں نیب میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ضروری ہے کہ مذکورہ افسر کا جعل سازی کی تحقیقات، قانونی معاملات اور دیگر انکوائریز کے حوالے سے 22 سال کا تجربہ ہو۔
سول سروسز ایکٹ 1973 کے تحت سرکاری ملازم کو ایک گریڈ کا اضافہ اس صورت میں دیا جاتا ہے جب وہ ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں تعینات کیا جائے لیکن اس قسم کے قوانین نیب پر لاگو نہیں ہوتے۔
کچھ دیگر نیب افسران مطلوبہ تجربے کے بغیر مختلف عہدوں پر موجود ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل کے لیے چیئرمین نیب کی جانب سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں












