ڈپلومہ مِل اسکیم : ایگزیکٹ عہدے دار کا اعتراف جرم

0
105

امریکا میں پاکستانی آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے ایک سینیئر عہدے دار نے ‘انٹرنیشنل ڈپلومہ مل’ اسکیم کے سلسلے میں انٹرنیٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کی سازش کا اعتراف کرلیا۔

امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ کے مطابق ’30 سالہ عمیر حامد نے امریکی ڈسٹرکٹ جج رونی ابراہمز کے روبرو اپنے اورپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کیا’۔

امریکی محکمہ انصاف کی پریس ریلیز کے مطابق قائم مقام امریکی اٹارنی جون ایچ کِم نے بتایا کہ ‘عمیر حامد نے پاکستان میں بیٹھ کر امریکی صارفین سے دھوکے کے ذریعے لاکھوں ڈالرز بٹورنے میں معاونت کی جنہوں نے یہ رقم ہائی اسکولز اور کالجز میں داخلے اور ڈگری کے حصول کے لیے دیے تھے لیکن ان اسکولز اور کالجز کا وجود ہی نہیں تھا’۔
کم کا کہنا تھا کہ ‘اس دھوکہ دہی کی وجہ سے ان لوگوں کو بے کار ڈپلومے اور تلخ تجربے کے سوا اور کچھ نہیں حاصل ہوا جنہوں نے یہ سوچ کر پیسے خرچ کیے تھے کہ وہ تعلیم کے حصول کے لیے خرچہ کررہے ہیں’۔

کِم کا مزید کہنا تھا کہ ‘ایف بی آئی اور پوسٹل سروسز میں موجود ہمارے پارٹنرز کی مدد سے ہم صارفین کو ان اسکیمز سے بچانے کے لیے کام کرتے رہیں گے جن سے ہمارے شہری متاثر ہوتے ہیں’۔

امریکی ریاست مین ہیٹن کے سابق اٹارنی پریت بھرارا کے مطابق سافٹ ویئر فرم ایگزیکٹ کے ایگزیکٹو عمیر حامد کو 19 دسمبر 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی روز فورٹ مچل، کینٹکی کی وفاقی عدالت میں انہیں پیش کیا گیا تھا۔

اُس وقت نیویارک کے امریکی اٹارنی کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ‘ایگزیٹ نے تقریباً 350 ہائی اسکولز اور یونیورسٹیوں سے الحاق کا دعویٰ کیا اور آن لائن صارفین میں ان کی حقیقی تعلیمی اداروں کے طور پر تشہیر بھی کی حالانکہ یہ جعلی تھے’۔

یہ بھی کہا گیا تھا کہ ‘2014 کے بعد سے مختلف اوقات میں ایگزیکٹ کو یومیہ تقریباً 5 ہزار فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے ایگزیکٹ کی پروڈکٹس اور ان تعلیمی اداروں میں داخلے کی خواہش ظاہر کی جو مبینہ طور پر ایگزیکٹ سے الحاق رکھتے تھے’۔

پریس ریلیز کے مطابق ‘جب صارفین پوچھتے تھے کہ اسکولز کہاں واقع ہیں تو سیلز نمائندے کو یہ ہدایات تھیں کہ وہ جعلی پتے بتادیں’۔
امریکی حکام نے عمیر حامد پر الزام لگایا تھا کہ وہ فیس بھر کر ‘اسکولز’ میں داخلہ حاصل کرنے والے صارفین سے غلط بیانی کرکے انہیں ‘نام نہاد اسکولز’ کی ویب سائٹس پر بھیج دیتا تھا اور کہتا تھا کہ انہیں وہاں سے آن لائن ہدایات اور کورس ورک ملے گا۔

امریکی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ اضافی فیس کے بدلے ‘غلط تعلیمی اسناد’ بھی فروخت کرتا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY