روس نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد ’ویٹو‘ کردی

0
133

شام میں گذشتہ دنوں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد ویٹو کرکے روس نے ایک بار پھر اپنے اتحادی شام کو بچالیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کی قرارداد میں شمالی شام کے شہر ادلب میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے شامی حکومت سے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

برطانیہ، فرانس اور امریکا کی ڈرافٹ کردہ اس قرارداد کے حق میں 10 ووٹ آئے جبکہ روس اور بولیویا نے مخالفت کی، دوسری جانب چین، قازقستان اور ایتھوپیا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

واضح رہے کہ یہ آٹھواں موقع ہے جب روس نے شام کے خلاف کسی قرارداد کو ویٹو کیا۔

ووٹنگ سے قبل روسی سفیر ولادی میر سیفرنکوو نے کونسل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’یہ قرارداد غیر ضروری ہے اور مغربی طاقتوں کی جانب سے مبینہ کیمیائی حملے میں شامی حکومت کو ملوث سمجھنا قبل از وقت ہے‘۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں شام کے شمال مغربی حصے میں واقع باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں جنگی جہازوں کے ذریعے کیے گئے مبینہ مہلک گیس حملے میں متعدد بچوں سمیت 90 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی تحقیقات میں شامی حکومت پر 2014 اور 2015 میں 3 کلورین گیس حملوں کے الزامات عائد کیے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب شامی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، جس کا کہنا ہے کہ ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال باغیوں کی جانب سے کیا گیا۔

مغربی اتحاد نے اس حملے کا ذمہ دار شامی حکومت کو قرار دیا تھا، جس کے چند روز بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شامی حکومت کے خلاف 59 ٹام ہاک کروز میزائل داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں 4 شامی فوجی ہلاک جبکہ شامی ایئربیس مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

شامی صدر کی روس کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’روس کے ساتھ امریکی تعلقات کمزور ترین ہوسکتے ہیں‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY