چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے کام کردیا، جب کہ سرکاری پروٹوکول بھی واپس کردیا، رضا ربانی کا کہنا تھا کہ کل کا سرکارہ دورہ ایران بھی منسوخ کردیا ہے۔
سماء کے مطابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سرکاری پروٹوکول واپس کردیا، چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے کل کا دورہ ایران بھی منسوخ کردیا، حکومتی وزراء چیئرمین سینیٹ کو منانے میں ناکام ہوگئے، رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایوان کا تقدس بحال رکھنے میں ناکام ہوگیا، وفاق اور صوبوں میں تناؤ بڑھ رہا ہے، عہدہ چھوڑنے کے بعد چیئرمین رضا ربانی نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو بھی ہدایات جاری کردیں کہ سیکریٹریٹ کی جانب سے کوئی بھی سرکاری فائل نہ لائی جائے، ان کا کہنا تھا کہ اب چیئرمین سینیٹ نہیں رہا، استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہوں۔
دوسری جانب چیئرمین سینیٹ کے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی کا معاملہ گونج ایوان وزیراعظم تک پہنچ گئی، حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچنے کے بعد معاملہ وزیراعظم تک پہنچ گیا، جس کے بعد چیئرمین رضا ربانی کو منانے کا ٹاسک اسحاق ڈار کے سپرد کردیا گیا ہے۔ راجہ ظفر الحق اور وفاقی وزراء کے رضاربانی سے رابطے شروع ہوگئے، وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو مستعفیٰ ہونے سے روکا جائے۔
چیئرمین سینیٹ نے سرکاری پروٹوکول واپس کرتے ہوئے گھر جانے کے لیے پرائیوٹ گاڑی منگوالی، آخری اطلاعات تک حکومتی وزراء چیئرمین سینیٹ کو منانے میں ناکام رہے، جب کہ پی ٹی آئی بھی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ ڈٹ گئی۔
میڈیا سے گفت گو میں سینیر سیاست دان ظفر الحق کا کہنا تھا کہ سینیٹ واپسی پر پتا چلا کہ رضا ربانی نے کام کرنا چھوڑ دیا، رضا ربانی سے کہا کہ آپ نے بہت سی اصلاحات کی ہیں، رضاربانی کی وجہ سے سینیٹ کا وقار بڑھا ہے، راجہ ظفر الحق کا مزید کہنا تھا کہ رضا ربانی سے کہا آپ کی اصلاحات کو سراہتے ہیں، آپ نے بہت قربانیاں دی ہیں، اسے ضائع نہ کریں، رضا ربانی سرکاری گاڑی میں جھنڈا لگا کر گھر گئے ہیں












