مردان پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کونسلر عارف خان، جو کہ طالب علم کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے مشعال خان کے قاتل کا نام نہ لینے کے لیے ہجوم کو تنبیہ کرتے نظر آئے، تاحال مفرور ہیں۔

پولیس کی جانب سے نشاندہی کیے جانے والے 49 افراد کی فہرست سامنے لانے اور ان میں سے 47 کی گرفتاری کا دعویٰ کیے جانے کے بعد عارف خان کے حوالے سے بھی یہ سمجھا جارہا تھا کہ گرفتار افراد میں وہ بھی شامل ہیں۔

عارف خان کی گرفتاری سے متعلق سوالات عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنما بشریٰ گوہر ٹوئٹ کے بعد اٹھائے گئے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ عارف خان اب بھی مفرور ہے اور تحریک انصاف کے ایک رکن صوبائی اسمبلی تھائی لینڈ فرار ہونے میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔

پولیس ذرائع سے جب اس سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے عارف خان کو تاحال گرفتار نہ کیے جانے کا اعتراف کیا۔

پولیس ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پہلے عارف خان کا نام کیس میں گرفتار افراد کی فہرست میں ظاہر کیا گیا تھا۔

تاہم مردان پولیس حکام نے ڈان نیوز کو یقین دلایا کہ عارف خان ملک سے فرار نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کا پاسپورٹ کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ وہ مشتبہ کونسلر کی گرفتار کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور پولیس کو 30 اپریل کو آخری بار عارف خان کے مہمند ایجنسی میں موجود ہونے کی اطلاع ملی تھی

SHARE

LEAVE A REPLY