تاریخ میں پہلی بار سعودی حکومت نے خواتین کو کسی مرد کی رضامندی کے بغیر جانے کی اجازت دی ہے۔

سعودی خواتین کو گھر سے باہر کسی کام یا خدمات سرانجام دینے کے لیے محرم یا گھر کے سرپرست مرد سے اجازت لینا لازم ہوتی تھی۔

تاہم حالیہ حکومت نے اب یہ شرط ختم کردی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ نے عرب نیوز اور مقامی میڈیا کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 5 مئی کو ایک حکم نامہ جاری کیا، جس میں خواتین کو کسی محرم یا گھر کے سربراہ مرد کی اجازت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کیے گیے حکم نامے میں کہا گیا کہ اب خواتین کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی غرض سے باہر جانے کے لیے مرد سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ عمل اسلامی قوانین کے خلاف نہیں ہے، تاہم یہ خیال رکھا جائے کہ خواتین کے باہر جانے کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق قانونی طور پر جواز موجود ہو۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا کہ ایسا حکم نامہ جاری کرنے کے لیے حکومتی ایجنسیز نے مشورہ دیا تھا۔

خبر رساں ادارے نے بتایا کہ اگرچہ سعودی حکومت نے اس حکم نامے کے ذریعے خواتین کو کچھ رلیف فراہم کیا ہے، تاہم سماجی کارکنان نے کہا ہے کہ’ یہ کافی نہیں ہے‘۔

سعودی عرب کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہوں نے خواتین کے حوالے سے قدرے سخت اقدامات اپنائے ہوئے ہیں، جب کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے۔

سعودی عرب میں نافذ نظام کے تحت خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کسی دوسرے شہر یا ملک سفر کرنے سمیت دیگر امور سرانجام دینے کے لیے انہیں گھر کے سربراہ مرد سے اجازت لینا ہوتی ہے۔

سعودی عرب کے شہر جدہ کی رہائشی اور سماجی کارکن سحر حسن نجیف نے حکومت کے تازہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکم نامے سے یہ واضح نہیں ہو رہا ہے کہ اس پر عمل کب ہوگا۔

سحر حسن نجیف نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ خواتین مردوں کی اجازت لینے کے عمل کا مکمل خاتمہ چاہتی ہیں۔

قطیف کی رہائشی خاتون نسیمہ السادہ نے خبر رساں ادارے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکومت مردوں سے اجازت لینے کی شرط کو مکمل طور پر ختم کرے گی، البتہ حکومت ان میں نرمی کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس سعودی عرب کے ہزاروں افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے، جس میں مرد کی سرپرستی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس پٹیشن کے بعد رواں برس جنوری میں اقوام متحدہ (یو این) کے خصوصی مندوب فلپ ایلسٹن نے سعودی عرب کے دورے کے دوران کہا تھا کہ سرپرستی کے نظام میں بہتریاں لانے کا وقت آچکا۔

SHARE

LEAVE A REPLY