سیّد فخرالدّین بلّے : مجسّم شکر ۔… فیصل عظیم

0
1323

قادراکلام شاعر ، دانشور، ادیب، صوفی منش انسان ، ماہرتعلقات ِ عامہ
مایہء ناز محقق ، دوتحقیقی کتابوں ولایت پناہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالی ٰ وجہہ الکریم اور فنون ِ لطیفہ اوراسلام کے مصنف ،اسٹیج کی دنیا کیلئےاہم کارنامے انجام دینے پر قرارپانے والے محسن ِ فن اورمین آف دا اسٹیج سید فخرالدین بلے کی فکری ، تخلیقی ، تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی جہتیں بلاشبہ قابل ِ تحسین ہیں ۔ان میں چُھپے جہان بھی اہل ِ علم وادب نے دریافت کئے ہیں اورجتنا کچھ لکھاہے وہ کئی کتابوں کی صورت میں ہمارے سامنے آچکاہے۔ایک کتاب سیدفخرالدین بلے۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن میں بڑی بڑی نامورادبی ہستیوں نے سیدفخرالدین بلے کےکمالات اجاگر کئے ہیں ۔ ایک کتاب ۔بلے بلے ۔ سید فخرالدین بلے۔ انٹرنیٹ پر ارباب ِ علم و ادب کی توجہ کھینچتی دکھائی دیتی ہے ۔ نامورادبی شخصیت اور ادبی مجلے اقدار کے مدیراعلیٰ شبنم رومانی نےانتخاب کلام ترتیب دیا اور اسے سیدفخرالدین بلے کی بیاض کے ساتھ سات دن کاعنوان دیا ہے۔اس میں ان کا اظہاریہ بھی ہے ان کے صاحبزادے اورجانے مانے شاعر فیصل عظیم نے اس کادیباچہ لکھا ہے۔انہوں نے کچھ ایسی باتیں بھی لکھی ہیں ، جواس سے پہلے سید فخرالدین بلے کے حوالے سے سامنے نہیں آئیں ۔ دراصل جس شخصیت نے بہت سے ادوار دیکھے ہوں ، اس کا شعری رنگ بھی ہردور میں الگ الگ ہی ہوسکتا ہے اور سید فخرالدین بلے کے حوالے سے بھی ایسا ہی ہے۔ مثلا ً ان کا ایک شعر دیکھئے۔

اٹھائے پھرتا ہوں سے اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کا کلام دیکھیں تو لگتا ہے کہ بہت سی جگہوں پر ان کی فکر سب سے ہٹ کر ہے۔اور انتقام لینے پر آئیں توایسے کہ شاید کسی نے ایسے انداز میں انتقام لینے کا سوچا بھی نہیں ہوگا۔ ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے
اپنے احساس کو معکوس نہ ہونے دوں گا
فکرکوشعر میں ملبوس نہ ہونے دوں گا
مجھ پہ جو کچھ بھی گزرتی ہے مِری جان ِ وفا
انتقاماً تجھے محسوس نہ ہونے دوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور شعر دیکھئے ، جس میں انہیں فن کار کی گھٹن کا اندیشہ لاحق ہے۔
اُٹھاکے تابہ فلک فکرو فن کی دیواریں
گھٹن سے آپ ہی فن کار مرنہ جائے کہیں

جب آپ کسی کی شخصیت یا فن کے بارے میں لکھنے بیٹھیں اور اس موضوع پر پہلے ہی بہت لکھا جا چکا ہو، تو ایک مشکل تو یہ پیش آتی ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ حالانکہ جو کچھ پہلے لکھا جاچکا ہے، وہ خود آپ کو ایک سمت میں روانہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کے اشارے جدھر کو ہوتے ہیں، وہ تو تن آسانی کی راہ ہوا کرتی ہے جس سے بچ کر چلنا مشکل تو ہوتا ہے مگر ضروری بھی ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر اس ہستی کے بارے میں ایسے ایسے لوگ لکھ چکے ہوں، جنھیں پڑھ پڑھ کر ہم نے لکھنا سیکھا ہو، تو ظاہر ہے یہ مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک ایسی قدآور شخصیت جس کے فن، علم اور شخصیت کے معترف نابغۂ روزگار ہوں، ایسی شخصیت کے بارے میں مجھ سے کم مایہ کے لیے کچھ لکھنا اور پھر اس لکھے کو کسی کے حوالے کرنا کیسا امتحان ہوتا ہے، یہ سمجھنا کوئی دشوار نہیں۔ لہٰذا فخرالدّین بلّے صاحب جیسی ہشت پہلو شخصیت کے بارے میں خامہ فرسائی کی کوشش میں اگر میرا خون خشک ہوگیا، تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ مگر صاحب، حکمِ ناز کو ٹالنا بھی تو ممکن نہیں۔
میری بدقسمتی کہ فخرالدّین بلّے صاحب کے درشن نہ کر سکا مگر میرے والد شبنم رومانی مرحوم و مغفور سے ان کی جو محبّت تھی، اس کی خوشبو ہمیشہ مجھ تک پہنچتی رہی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آپ کسی سے ملے نہ ہوں، پھر بھی ان سے آپ کو اس قدر انسیت ہو جیسی کہ بلّے صاحب سے مجھے ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔ فخرالدّین بلّے صاحب نے اردو ادب کو صرف تحریریں ہی نہیں دیں بلکہ لکھنے والے بھی دیے ہیں۔ یعنی ان کا صدقۂ جاریہ، ان کے نام لیوا جو خود نامور بھی ہیں اور حرف گر بھی۔ یعنی ان کے آنگن کے پھول، ان کے گھرانے کے چشم و چراغ سید انجم معین بلے ، آنس معین، عارف معین بلّے اور ظفر معین بلّے صاحبان، جن کی خدمات سے ہم سبھی واقف ہیں۔ اس سے ہٹ کر بھی اگر دیکھیے تو بلّے صاحب صرف شاعر اور ادیب ہی نہیں تھے بلکہ ادب اور ادیبوں کی سرپرستی کرنے والوں میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ تعلّقاتِ عامہ کے شعبے سے کسی ادیب کی وابستگی کوئی انوکھی بات نہیں لیکن ان کی طرح اپنے اس مقام کو دوسروں کے لیے فیض رسانی، فن و ادب کے فروغ اور ادبی خدمت کا ذریعہ بنانے والے کم ہوتے ہیں۔ اور یہ کام بلّے صاحب نے خوب کیا۔

فخرالدین بلّے صاحب کے بارے میں ایک بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ان کی پیشہ ورانہ ذمےداریوں کی نوعیت، یعنی پی آر کا شعبہ تو دوسری طرف ان کی فطرت اور ان کا مزاج کہ وہ درحقیقت ایک صوفی منش انسان تھے۔ ان کے حالاتِ زندگی اور ان کے افکار پڑھنے والے کو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی درویش کی زندگی کا حال پڑھ رہا ہے۔ ان کے بارے میں ایک واقعہ ان کے بیٹے ظفر معین بلّے صاحب کی زبانی سننے کو ملا کہ جب ان کے بیٹے، منفرد شاعر آنس معین کی جوانی میں موت کی خبر ان تک پہنچی تو کمرے میں جاکر نماز پڑھی اور اس بات پہ اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انھیں ایک نعمت دی تھی، جو اگرچہ اس نے واپس لے لی مگر انھوں نے واپسی کی شکایت نہیں کی بلکہ اس کی دین پر اظہارِ تشکّر کیا۔ اور کوئی ہوتا تو اس نعمت کے چھننے کا شکوہ کرتا۔ کیسی عجیب بات ہے اور سبق آموز بھی۔ ان کی فقیرانہ طبیعت کے کئی واقعات مجھے کتاب ’’سید فخر الدین بلّے، ایک آدرش۔ ایک انجمن‘‘ میں بھی پڑھنے کو ملے۔

سید فخرالدّین بلّے صاحب کے کلام کے بارے میں لکھتے وقت ایک چیز کی کمی شدّت سے محسوس ہوتی ہے اور وہ ہے ان کے کلام کا مجموعہ۔ ہم نے ان کے کلام کا انتخاب تو پڑھا ہے اور اس پر مشاہیر کی آرا بھی پڑھنے سے تعلّق رکھتی ہیں مگر کلام کا انتخاب خاصہ مختصر ہے، اور غالباً ان کا تمام کلام دیوان کی شکل میں میسر بھی نہیں ہے۔ البتّہ یہ ضرور ہے ان کا انتخاب ہی ان کے فن کے کئی خوشگوار دریچے کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ان کا جو کلام ہمارے سامنے ہے ، اس میں آپ کو کئی ایسی باتیں نظر آئیں گی جو چونکادینے والی ہیں ، مثال کے طور پہ قوّالی ہی کو لے لیجیے۔ آج کل شاعری کی بہت سی اصناف پہ کام ہو رہا ہے مگر قوّالی یا قول ترانہ ان خوش نصیب اصناف میں شامل نہیں ہے۔ بلّے صاحب نے البتّہ اس صنف پہ جو کام کیا ہے، اس کا اعتراف بہت جگہ کیا گیا ہے اور یہ کوئی معمولی کام ہرگز نہیں ہے ، جسے نظرانداز کرنا ممکن ہو۔
فخرالدّین بلّے صاحب کی نظمیں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج نظم کے لیے کس قدر موزوں تھا۔ ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ حیرت انگیز تھا ، جس کا بھرپور اظہار ان کی پابند اور معرّٰی نظموں میں بالخصوص ہوتا ہے اور یہ ذخیرۂ الفاظ، ان کے نظموں کا ایک وصفِ خاص بھی کہا جا سکتا ہے۔ پھر آپ موضوعات کو لے لیجیے تو سرکاری نوکری کرنے والے کے ہاں بینک کے چوکیدار والی نظم کا ملنا، کہ جو فوجی آمریت پر بھرپور طنز ہو ، کم حیرت کی بات نہیں۔

عجائبات کی دنیا میں کچھ کمی تو نہیں
یہ ہو بھی سکتا ہے مجھ سا کوئی ہوا ہی نہ ہو
(فخرالدین ؔبلّے)

فخرالدین بلّے صاحب کے ہاں سوالات بھی ہیں، سوالوں کے جواب بھی اور جوابات کے رموز بھی۔ جو چیز نہیں ہے، وہ ہے الجھن۔ ان کے ہاں الجھاؤ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے خیالات میں بہت واضح ہیں۔ یہاں تک کہ جن خیالات کا اظہار وہ صرف رمز و کنائے میں کرتے ہیں، اس میں بھی کوئی الجھاؤ نہیں ہوتا، جسے ان کی فکری ہمواری کا ثبوت مانا جا سکتا ہے۔ بلے صاحب کا کلام بجا طور پر ان کی فکر و نظر اور شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ اس جہان سے سرسری گزرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ ان کے کلام میں کائنات اور فطرت کے محرمِ راز ہونے کا احساس، فکر کی گہرائی کے ساتھ ملتا ہے۔ یہ دراصل انسانی المیوں پر نظر جمائے، اس کے مستقبل کے لیے دردمندی کا اظہار کرتے شاعر کا کلام ہے۔ اسی احساس کا پھیلاؤ ہے، جو اقدار کی شکست و ریخت اور آنے والے وقت کے کٹھور موسموں کی جانب اشاروں کی صورت میں ان کے ہاں بہت خوبی سے ملتا ہے۔

مہر بلب ہیں گاؤں کے گیانی، شہر کے دانشور
بچے سوکھے پیڑوں کی تصویر بناتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم تو پھر گھٹن کیوں ہے
(فخرالدین ؔبلّے)

تاریخ، فلسفہ اور مجموعی نفسیات پر خیال کی ایسی گرفت محض قادرالکلامی سے نہیں آجاتی۔ یہ تو ایک ایسی دانشور کا حصّہ ہے جو سدا اپنے بل پہ سوچنا جانتا ہے۔ وہ دانشور جسے ہمارے اطراف تلاش کرنا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ بلاشبہ یہ فکری اُپچ ایسے ہی دانشور کے خاصہ ہوا کرتی ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ ان کی شاعری میں گہرے سمندر کی موجوں کا زیر و بم ہے جس کی بلندی بھی دیدنی ہے اور گہرائی بھی کہ یہی لہریں بلند ہوں تو خیال کی جست بن جائیں اور نیچے اتریں تو اس کی سطح پہ تیرتے اجسام کو تصوف کی گہرائیوں میں لے جائیں۔
کیا کہیں اور کیا چھوڑ دیں۔ بات کہاں ختم کریں جب کوئی اختتام ہو ہی نہیں۔ اور جب ایسا ہے، تو ہمیشہ کی طرح اپنی بات ادھوری کیوں نہ چھوڑ دوں۔ سو اس امید کے ساتھ اسے ادھورا چھوڑتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں ہمیں فخرالدّین بلّے صاحب کا کلام یکجا اور مکمّل حالت میں پڑھنے کا موقع مل سکے گا اور ان کے مجموعے یا کلّیات کی شکل میں جلد یہ فکر و نظر کا سمندر ہمیں دعوتِ نظّارہ دے گا۔ جاتے جاتے ان کے دو شعر آپ کے لیے۔

وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا

خدا گواہ کہ میں نے خود آگہی کے لیے
سمجھ کے خود کو حرم، عمر بھر طواف کیا
(فخرالدین ؔبلّے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجسّم شکر ۔ سیّد فخرالدّین بلّے
تحریر: فیصل عظیم ، کینیڈا

SHARE

LEAVE A REPLY