یہاں سے آگےبڑھے تو برآمدے سے ہوتے ہوے ایک کشادہ ہال میں داخل ہوئے ۔سرخ قالین بچھے ہوے اوران پربیٹھی خواتین مصروف عبادت نظر آئیں ۔ہم آگے بڑھے اورعائشہ مجھے مسجد کی محراب تک لے گئ۔ مسجد کوفہ کی وہ محراب جہاں شقی القلب ابن ملجم نےانیس رمضان المبارک فجر کی نمازکے دوران زہر آلود تلوار سے حضرت علی علیہ السلام کوزخمی کردیاتھا ۔
علی نے بھی مرے نام خدا کیا نام پایا ہے
خدا کے گھر سے کیا اعزاز کیا اکرام پایا
ہوئ کعبہ میں پیدائش ،شہادت پانی مسجدمیں
عجب آغازپایا تھا،عجب انجام پایا ہے
علی کی شان،بزرگی اورفضیلت کوئی کیسے بیان کرسکے۔ کہ جوجنم لے توکعبہ میں، پرورش پاے توزیرسایہ خدیجہ اوررسول امم کے ۔جس کو بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔
حیدرکرار،فاتح خیبر
میدان جنگ ہو یامیدان علم ادب بیک وقت دونوں کے بےنظیر شہسوار
۔تلوار اٹھائی توہزاروں جوانوں پربھاری عمرابن ودکی۔گردن اڑا کرپھینکی تو حضور نے فرمایا۔ علی کی یہ ایک نیکی تمام انسانوں اورجنوں کی عبادت سے افضل ہے ۔
قلم اٹھائیں تونہج البلاغہ جیسی معرکتہ الآراکتاب لکھ ڈالیں۔جوباب علم ہو۔ اورجس کے علم کی وسعت کایہ حال ہو۔ کہ فرماے کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھوں توستر اونٹوں پر نہ سماے۔
جو کہے کہ جتنا میرا علم تھا۔ اتنا کسی نے پوچھانہیں
۔شب ہجرت نبی کے بستر پر سونے والے ،مواخات مدینہ میں آپ نے علی کو بھائی بنایا ۔متعدد احادیث علی کی عظمت، بزرگی اورفضیلت کی دلیل ہیں ۔
علی کے فضائل احاطہ تحریر میں نہیں آسکتے۔
بہلول دانا ایک دن دریا کے کنارے پانی کاگلاس بارباربھر رہے تھے۔ کسی نےپوچھا کیا کر رہے ہو؟ جواب دیادریاکو گلاس میں بند کررہا ہوں ۔یہ سن کر سوال کرنے والے نے مذاق اڑاتے ہوے کہا۔ پاگل ہوگئے ہو۔ بھلادریا کو گلاس میں بند کیا جاسکتا ہے ۔
بہلول دانا نے کہا یہی تو میں سمجھانا چاہ رہا ہوں۔ کہ دریا گلاس میں نہیں سما سکتا تو اتنا بڑا علی کیسے کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے!!
جالیوں کے اندر جھانک کر وہ جگہ دیکھی، جہاں ملعون ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے وار کیا۔ اس جگہ روشنیوں کی چکاچوند اورنوٹوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ درہم ودینار پونڈ ڈالر ہر طرح کےنوٹ تھے۔وہ جنہوں نے دنیا کے مال وزر پر فقر کوترجیح دی۔
ایک دفعہ قصاب نے پیش کش کی ۔کہ خیر ہے ۔گوشت قرض لے جائیں ۔آپ نے جواب دیا یہ قرض میں اپنے پیٹ سے کیوں نہ کرلوں۔جن کافرمان ہے۔کہ دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے۔اس کا ظاہر سانپ کی جلد کی طرح خوشنما اور خوب صورت ہے ۔اور اس کے اندر زہر بھرا ہوا ہے ۔
الله کے چاہنے والوں کی اس دنیا میں بھی کیاشان ہے۔زروجوہر اورایک خلقت کے دلوں میں بسنے والے ،آنسووں کے نذرانے اور محبت کے خزانے لیے ایک ہجوم عاشقاں محو دعا اورگریہ کناں دکھائی دیا۔
باب علم کےدر پر کھڑی جالی پکڑے دعائیں کرتی رہی ۔یہاں کھڑا ہونا بھی کیسی خوش بختی اوراللہ کافضل تھا۔ پہچھے کھڑی خاتون منتظر تھی۔ سوجالی سےہاتھ ہٹاکر اسے جگہ دی۔ اورہال میں رکھے اس منبر کودیکھنے لگے۔ لکڑی کا بنا اونچا خوب صورت منبر ،جہاں بیٹھ کر علی رضہ اللہ تعالی عنہ خلیفہ وقت کی حثیت سے خطبہٴ دیا کرتے ۔اور مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ تادیر اس منبر کو دیکھتی اوران کے عادلانہ اورحکیمانہ فیصلوں کو یاد کرتی رہی ۔پھر نفل پڑھ کردعائیں کیں شکرانے کےسجدے کئے۔ اورباہر آےباہر آکر پھر وہیل چیئر پربیٹھ گی۔
اس وسیع وعریض مسجد کےحسین درودیوار پر الوداعی نگاہ ڈالتے ہوے باہر کی طرف جاتے جاتے عائشہ سے کہا کہ بی بی فاطمہ۔کا گھر تو دکھایا نہیں۔یہ سن کر احمد نے کہا اس وقت تو بند ہوجاتا ہے ۔میں کوشش کرتا ہوں۔ وہ فون کرنے لگے اور میں دعائیں کہ یہ گھر نہ دیکھا تو حسرت اور تشنگی رہے گی۔تھوڑی دیر بعدعایشہ نے کہا چلیں امی گھر تو بند ہے۔مگر ہمارے لئے کھول دیں گے۔تھوڑاسا پیدل چلنا پڑےگا۔چل لیں گی نا۔میں نے کہا کیوں نہیں لواپنے ٹریک کے تو دودو چکر لگاتی ہوں۔یہاں توسر کےبل جانے کوتیار ہوں
۔مسجد سے نکل کر تھوڑا ساراستہ بازار میں سے گزر کر طے کیا ۔تو بائیں ہاتھ پر ایک چاردیواری کے اندر گئے۔یہاں متعلقہ افراد اپنی معیت میں ہمیں لے کر اندر داخل ہوے۔۔وہ ہماری رہنمائی کرتے ہوے أگےبڑھے۔ان کے ہاتھوں میں ایمرجنسی لائٹس پکڑی ہوی تھیں ۔کیونکہ گھر میں تعمیروتزیین کا کام ہو رہا تھا۔بجلی بند تھی۔اورصحن میں جگہ جگہ تعمیراتی سامان بکھرا پڑا تھا ۔گھر میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پر وہ کنواں تھا۔جس کو امیر المومنین نے اپنے ہاتھوں سے کھودا تھا ۔ان کے ہاتھ میں پکڑی روشنی میں جھانک کر دیکھا ۔گہرا کنواں پانی سےلبالب بھرا ہوا تھا۔اس پانی کو شفائی پانی سمجھا جاتاہے۔زائرین اس کو پیتے بھی ہیں ۔اور بوتلوں میں بھر کر ساتھ بھی لے جاتے ہیں ۔تھوڑا سا اور آگے بڑھے تو ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بتایا گیا ۔کہ اکیس رمضان المبارک کو حضرتِ علی رضی الله تعالیٰ عنہ کواس جگہ غسل دیا گیا ۔بائیں ہاتھ پر ایک اور چھوٹا کمرہ تھا،یہاں انہیں کفنایا گیا۔ رات کاوقت ،اندھیرا جگہ جگہ سامان بکھرا ہوا اور یہ دو کمرے دیکھ کر دل غمگین اوراداس ہوگیا ۔اس سے متصل ایک اور بہت چھوٹا سا کمرہ تھا۔ جو حسنین کریمین کا تھا۔ جہاں وہ مطالعہ اورعبادت کیا کرتے تھے ۔کتابوں کے لئے طاق بنے ہوے تھے یہ کمرہ دیکھ کر سوچایہ اسلامی سلطنت کے امیرالمومنین اورخلیفہ وقت کے شہزادوں کاکمرہ ہے ۔۔صحن کے اک طرف خواتین کے پردہ لگے حجرے تھے۔ کہ ان کی آواز باہرنہ جاے۔اللہ اللہ آج کس کےگھر میں کھڑی ہوں ۔علم وعمل کے مہر عالم تاب و مہتاب!!!
جن کے علم وعمل کی کرنیں تاقیامت اجالا کرتی رہیں گی ۔راستہ دکھاتی رہیں گی ۔علی اور فاطمہ دنیا کاسب سےافضل جوڑا ! بقول شخصے دلہن رسول کے گھر کی تو دولہا خدا کے گھرکا تھا۔ پھر حسنین کریمین ہمہ خانہ آفتاب است
فاطمہ جگر گوشہ رسول لقب جس کے طاہرہ، زہرا ،بتول، طیبہ ،منزہ
چکی پیس پیس کر ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے۔ چکی اور سا تھ ساتھ تلاوت قرآن بھی جاری رہتی ۔جو رات کے نوافل کے لئے کھڑی ہوتیں ۔توجذب وشوق کا یہ عالم ہوتا۔ کہ حسرت سے کہتیں یہ رات اتنی جلدی کیوں ختم ہوگئ۔
ایک دفعہ اللہ اوراللہ کےمحبوب کےمحبوب اس جوڑے نےمنت کے تین روزے رکھے۔ عین افطارکے وقت سائل آگیا۔ روٹی اٹھا کراسے دےدی اورخود پانی پی کر روزہ رکھ لیا۔ دوسرے دن چکی پیس کر روٹی بنائی ۔ابھی لقمہ نہیں توڑا تھا۔ کہ پھر مانگنےوالے نےصدا لگائی ۔روٹی اسے دے کرپانی سے افطار کیا۔ تیسری افطاری پربھی ایسا ہی ہوا۔ جس پر قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ وہ لوگ جو اپنی جانوں پر دوسروں کوترجیح دیتے ہیں ۔۔
ؑہونے کو سینکڑوں ہوئیں دنیا میں عورتیں
ایثار فاطمہ کی نہ لیکن ملی مثال
اپنی دوست ڈاکٹر ثروت رضوی کی کتاب باب علم پر دستک پڑھ کر اسے لکھا تھا۔ کہ باب علم دستک ہر کسی کونصیب نہیں ہوتی ۔میں نے خود کو کبھی دستک کے قابل ہی نہیں جانا۔
اورآج صحن فاطمہ میں کھڑی سراپا سپاس اورسراپاشکر تھی کہ دل سے دعائیہ صدائیں اٹھنے لگیں ۔کہ یااللہ تومجھ کم علم کم عمل کو ایسے سخیوں کے در پر لے آیاہے۔ جن کےدر سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ تو مجھے ایسا علم نافع عطاکر کہ جولکھوں وہ صدقہ جاریہ بنے۔ بے ریاعمل جوقبول ہوجاے۔ اورتیرے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوجائیں ۔ان خاموش صداوں کو یا میں سن رہی تھی یاوہ جو دل کی صدائیں سننے پر قادرہے۔
چلیں ناامی عائشہ کی آواز نےچونکادیا۔
شمع بدست راہنما نےدوسری طرف کمرے کی طرف رہنمائی کی۔ اور وہاں سے گزر کر باہر نکلے تو دیکھا۔ یہ گھر کامرکزی دروازہ تھا۔ لکڑی کاخوبصورت دروازہ جسے ہمارے نکلتے ہی بند کردیاگیا ۔کچھ زائرین دروازے کے آگے دیوار سے لگے دعائیں مانگ رہےتھے۔
احمد نے کہا آنٹی اس طرف آئیں ۔ہم دیوار کے ساتھ چلنے لگے ۔چندقدم چلے تو قدآدم دیوارکے دوسری طرف جھانک کر اشارہ کیا۔ کہ یہ دیکھیں۔یہاں ابن زیاد کامحل تھا۔ جس کا اب نام ونشاں باقی نہیں اور یہ زمین مسلسل دھنستی چلی جارہی ہے ۔ہم سب نے دیکھا کہ وہاں کی زمین باقی زمین کی نسبت بیٹھی ہوئ تھی ۔اللہ اکبر اللہ اکبر, الله دنیا میں ہی اپنےعاشقوں کابلندمقام، قدرومنزلت اور ظالموں کاعبرت ناک انجام دکھا دیتاہے۔ کہ لودیکھو کس راستے پر چلنا ہے۔
دیوار کے ساتھ ساتھ ہم چلتے گئے توایک چھوٹے سے گیٹ کے پاس پہنچ کراحمد نے بتایاکہ امیر المومنین اس راستےسے مسجد کوفہ نماز کےلئے جایاکرتے تھے۔ مسجد۔ کوفہ کا ایک دروازہ اس طرف کھلتا ہے ۔دیوار کے ساتھ کجھوروں سے لدے ہوےدرخت تھے۔ پگڈنڈی جتنا راستہ اورزمین تو صحیح تھی۔ جب کہ چند قدم آگے محل کی زمین بہت نیچے بیٹھی ہوئ نظر آرہی تھی ۔
یہ اہل بیت کی حقانیت اوریزید کی ملعونیت کی روشن دلیل تھی ۔یوں توان گنت شعرا نے بلاتخصیص مذہب اہل بیت کی شان میں اشعار کہے ہیں ۔علامہ اقبال نے ایل بیت سے جس محبت کااظہار کیاہے ۔وہ ایسا شاندار کہ بہت سے اشعارضرب المثل کی صورت اختیار کرگئے ۔خاتون جنت زہرابتول کی شان میں یہ نظم میری بہت پسندیدہ ہے۔مدحت جناب فاطمہ الزہرہ بزبان علامہ محمد اقبال
ﻣﺮﯾﻢ ﺍﺯ ﯾﮏ ﻧﺴﺒﺖ ﻋﯿﺴﯽ ﻋﺰﯾﺰ
ﺍﺯ ﺳﮧ ﻧﺴﺒﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﮨﺮﺍ ﻋﺰﯾﺰ
ﻧﻮﺭ ﭼﺸﻢ ﺭﺣﻤﺔ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ
ﺁﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﻭ ﺁﺧﺮﯾﻦ
ﺑﺎﻧﻮﯼ ﺁﻥ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ’’ ﮨﻞ ﺍﺗﮯ ‘‘
ﻣﺮﺗﻀﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮔﺸﺎ ﺷﯿﺮ ﺧﺪﺍ
ﻣﺎﺩﺭ ﺁﻥ ﻣﺮﮐﺰ ﭘﺮکاﺭ ﻋﺸﻖ
ﻣﺎﺩﺭ ﺁﻥ ﮐﺎﺭﻭﺍﻥ ﺳﺎﻻﺭ ﻋﺸﻖ
ﻣﺰﺭﻉ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﺘﻮﻝ
ﻣﺎﺩﺭﺍﻥ ﺭﺍ ﺍﺳﻮﮦٔ ﮐﺎﻣﻞ ﺑﺘﻮﻝ
ﺭﺷﺘﮧٔ ﺁﺋﯿﻦ ﺣﻖ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭘﺎﺳﺖ
ﭘﺎﺱ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺍﺳﺖ
ﻭﺭﻧﮧ ﮔﺮﺩ ﺗﺮﺑﺘﺶ ﮔﺮﺩﯾﺪﻣﯽ
ﺳﺠﺪﮦ ﮨﺎ ﺑﺮ ﺧﺎﮎ ﺍﻭ ﭘﺎﺷﯿﺪﻣﯽ
ﻋﻼﻣﮧ محمد ﺍﻗﺒﺎﻝ
ترجمہ حضرت مریم کی ایک نسبت کہ وہ عیسی علیہ السلام کی ماں ہیں۔
بی بی فاطمہ کی تین نسبتیں ہیں۔
نور چشم رحمت العالمین جواولین واخرین کے امام ہیں۔
زوجہ محترمہ مشکل کشا،شیر خدا
3عشق کی پرکار کا مرکز امام حسین ہیں۔اورعشق کے پرکار کی مرکز کی ماں ہیں۔
شریعت کی زنجیرنہ ہوتی ۔اورآپ صل الله علیہ وآلہ وسلّم کے فرمان کا پاس نہ ہوتا توتیری قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا اورقبر کا طواف کرتا۔
صل الله علیہ وآلہ واصحابہ وصلعم
سبحان اللہ سبحان اللہ













