بارہ مئی 1820ء جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹ اینگل پیدا ہوئیں

0
130

کہا جاتا ہے کہ جنگ کریمیا کے خاتمے کے بعد ایک تقریب میں موجود تمام فوجی افسران سے کہا گیا کہ وہ ایک پرچی پر س شخصیت کا نام لکھیں جس کا نام اس جنگ کے بعد سب سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔تمام فوجی افسران نے اپنے اپنے کاغذ پر نام لکھے اور جب ان تمام کاغذات کو دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ تمام فوجی افسران نے اپنے اپنے کاغذ پر ایک ہی نام لکھا تھا۔ فلورنس نائٹ انگیل۔
فلورنس نائٹ انگیل 21 مئی1820 کو پھولوں کے شہر فلورنس میں پیداہوئی۔ اس کا نام اس شہر کے نام پر ہی رکھا گیا۔ اس کے والدین کو خیال بھی نہ تھا کہ ان کی بیٹی کا نام ایک وقت میں سلطنت برطانیہ میں سب سے زیادہ جانا جائے گا۔ فلورنس کے والد ولیم نائٹ انگیل ایک کھاتے پیتے جاگیردار تھے۔ فلورنس کی والدہ ناروچ کے ایک پارلیمانی رکن کی بیٹی تھیں۔
فلورنس کے نانا انسانیت کی خاطر خدمات انجام دینے میں مشہور تھے۔
فلورنس نائٹ انگیل بچپن میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ وہ گڑیوں کے کپڑے تبدیل کر کے ان کی بیڈ پر لٹا دیتی اور چھوٹی بہن کو کہتی کہ گڑیاں سو رہی ہیں ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ ان کی بہن کو گڑیوں سے کوئی خاص لگاوٴ نہ تھا اور وہ گڑیوں کے ہاتھ پاوٴں تور دیتی تھی۔ اس پر فلورنس نہایت احتیاط کے ساتھ گڑیوں کے ہاتھ پاوٴں کی بیڈیج کرتی۔ فلورنس ذرا بڑی ہوئی تو اس نے ایک زخمی کتے کی پوری لگن کے ساتھ تیمارداری کی اور اس کو صحت یاب ہونے میں مدد دی۔ اس کام کے لئے وہ گھنٹوں گھر سے غائب رہتی۔ وہ دونوں بہنیں جانوروں سے بہت پیار کرتی تھیں اور گھر والوں کی طرف سے پالتو جانور رکھنے اور ان کے ساتھ کھیلنے کی مکمل آزادی تھی۔
فلورنس اور اس کی بہن کی تعلیم کا سلسلہ اس دور کے رواج کے مطابق گھر میں ہی شروع ہوا ۔ ایک گورنس ان کو گھر میں ہی تعلیم دیتی تھی لیکن اس کے والد اس کی تعلیم وتربیت اپنے مخصوص انداز میں کرتے تھے۔ اس کے والد انسانیت نواز انسان تھے اور انہوں نے انسانیت کی خدمت کے عظیم مقصد کی خاطر فلورنس کو کم عمری میں ہی آمادہ پایا لیکن وہ فلورنس کی تعلیم سے بھی غافل نہ تھے۔ انہوں نے فلورنس کو ابتدائی سائنس، یونانی و لاطینی زبانیں اور ریاضی کی تعلیم خود دہی۔ انہوں نے فلورنس کے کھیل اور تعلیم کے اوقات مقرر کر دئیے تھے اور وہ اصول توڑنے پر فلورنس کو سز ا بھی دیا کرتے تھے۔ فلورنس کی والدہ نے فلورنس کو گھریلو فنون میں مشاق کر دیا۔ جب وہ بارہ سال کی تھی تو اس کے اندر ایک بے چینی پیدا ہوئی۔ وہ کچھ سوالات کی بناء پر پریشان رہتی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ وہ ایک نواب کی بیٹی ہے۔ کیا اس کے لئے گھر میں آسائشات کے ساتھ رہنا جائز ہے جبکہ دنیا تکالیف کا گھر بن چکی ہے ؟ جہاں بیشتر لوگ غربت کی مصیبت اٹھا رہے ہوں، وہاں چند افراد کا تعیشاتِ زندگی کو محض اپنے لئے مختص کر لینا کیا ذیادتی نہیں ہے؟
کافی سوچ بچار کے بعد اس نے نرسنگ کے شعبے کا انتخاب کیا جس کے ذریعے وہ دکھی انسانیت کی خدمت کرسکتی تھی۔ اس کام کے لئے اس نے سالسبری ہسپتال میں کئی ماہ ایک نرس کی حیثیت سے کام کرنا تھا۔ اُس کے اس فیصلے کی اس کے خاندان میں شدید مخالفت کی گئی۔اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ ان دنوں نرسنگ کا شعبہ نہایت برا سمجھا جاتا تھااور دوسرا خواتین خود مختار ہو کرکوئی کان نہ کرسکتی تھیں۔ خاص طور پر اعلیٰ طبقے کی خواتین کا خود مختار نہ کام نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس دور کی نرس کا مطلب بوڑھی ،بدتمیز ، لاپروا، گندی اور ظالم خاتون تھی۔ ہسپتال میں نرس کو اخلاقیات سے بابلد خیال کیاجاتا تھا۔ یہ فلورنس نائٹ انگیل تھی جس نے اس شعبے کا انتخاب کیا اور اس کو عزت بخشی۔
اس نے تمام مخالفتوں کے باوجود اس پیشے کا انتخاب کیا اور سالسبری ہسپتال میں ایک عظیم جدوجہد کا آغاز کیا۔ دنیا کے مزے اس کے لئے کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے حتیٰ کہ شادی میں بھی اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جبکہ وہ ایک نہایت حسین خاتون تھی۔ اس نے آٹھ سال تک سالسبری ہسپتال میں کام کیا اور اس دوران اپنے آپ کو اس ہسپتال تک محدود نہ رکھا بلکہ تمام یورپ کے ہسپتالوں ،مریضوں اور عوام کی صحت کے مسائل سے متعلق معلومات جمع کیں۔اس دوران وہ تمام یورپ میں مختصر اوقاات کے لئے خدمات بھی انجام دیتی رہی۔ اس نے پاسٹر فلیڈنر کے دنیا بھر میں پہلے نرسنگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کیا تو آئندہ عمر کے لئے پلاننگ بھی کر لی۔ اب دنیا اس کے سامنے تھی اور اس نے دکھی انسانیت کی خدمت کرنا تھی۔ تین سال اور گزرے تو اس کے خاندان نے بھی یہ سوچ کر اس کی معمولی مخالفت بھی ختم کردی کہ وہ اب بڑی ہوگئی ہے اور خود اپنا خیال رکھ سکتی ہے۔
اب کی بار فلورنس نے 47 ہار لے اسٹریٹ پر اپنا ادارہ قائم کیا اور اس نرسنگ ہوم کی سپر نٹنڈنٹ بن گئی اور تند ہی سے اپنا کام شروع کر دیا۔ انہی دنوں کریمیا کی جنگ شروع ہو گئی۔ پورے ملک میں جنگ کی خبریں سنی جانے لگیں۔ جب یہ معلوم ہوا کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تیماداری نہیں ہو رہی اور زخمی تیزی سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس وقت محدود پیمانے پر جنگ جیتی جا چکی تھی اور ملک میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے۔ ان حالات میں زخمی فوجیوں کی حمایت اور تیماداری کے سلسلے میں فلورنس نائٹ انگیل نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس سلسلے میں ملک میں ہاورڈ رسل نے خواتین سے زخمی فوجیوں کے لئے خدمات طلب کی تھیں۔ اس وقت فلورنس محض 34 سال کی تھی۔ 15،اکتوبر کو اس نے حکومت کو خط لکھا اور حکومت نیاس کی خدمات مخصوص کر لیں۔ محاذ پرجانے والے قافلے کو رخصت کرنے بے شمار افراد آئے تھے۔ فلورنس اور اس کا قافلہ 4 نومبر 1884 کو بالا کلاوا کی جنگ کے بعد سکوٹری کے مقام پر انکرمین کی جنگ سے پہلے پہنچا۔
فلورنس نے محاذ کا دورہ کیا تو دل چیر دینے والا نظارہ اس کے سامنے تھا۔ زخمیوں کی حالت نہایت بری تھی۔ ان کے بیڈ نہایت گندے اور جراثیم آلود تھے اور ان کی چادریں اتنی کھردری تھیں کہ ان پر لیٹا نہ جائے۔ کئی جگہوں پر زخمیوں کے لئے بیڈ بھی نہ تھے اور وہ محض ایک چادر میں زمین پر پڑے رہتے تھے۔ رات کو روشنی کے لیے موم بتیاں تھیں جن کی روشنی میں چوہے مریضوں کو کاٹ کر ان کی تکالیف میں اضافہ کرتے۔ کوئی برتن نہ تھے۔ دواوٴں، مرہم پٹیوں کا انتظام نہ تھا صفائی اور کچھ تک کی سہولت نہ تھی۔ مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا لیکن فلورنس نے امید کا دامن نہ چھوڑا۔ اگرچہ آرمی افسران نے حالات کو غیر تسلی بخش قرار دیا لیکن فلورنس نے ذاتی ذرائع سے سات ہزار پونڈ جمع کیے اور ایسی چیزیں خریدیں جن کی اشد ضرورت تھی۔ جلد ہی اس کی کوششیں رنگ لائیں اور گندگی کی جگہ صفائی دکھائی دینے لگی اور صحت کے معاملات بہت ہونے لگے۔ جب تمام ڈاکٹر وغیرہ رات کو آرام کر رہے ہوتے ، فلورنس اپنی ایک لالٹین اٹھائے تمام جگہوں پر چکر لگاتی۔ اس کی کوششوں سے محض دس دن میں حالات یہ ہو گئے کہ مریض کی پکار پرنرس اسے اٹینڈ کرنے کو آجوجود ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ تمام انگلستان کا سونا بھی مل کر وہ تبدیلی نہ لا سکتا تھا جو کہ فلورنس کے ہمدردی سے معمور دل اور محبت سے پُرذہن نے مختصر وقت میں ممکن بنا دیا۔
فلورنس کے کام میں روایتی سرکاری سست روی نے کافی تنگی پیدا کی لیکن اُس نے اس پر اپنی اتھارٹی استعمال کی جس کی وجہ سے اس کے کئی مخالفین وجود میں آگئے لیکن اس نے کوئی پروا نہ کی کیونکہ اس کا مقصد نیک تھا۔ سکوٹری کے ہسپتال میں رواج بن گیا تھا کہ کہ کم زخمی مریضوں کا پہلے علاج کیا جاتا اور زیادہ زخمی مریضوں کو مایوسی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا۔ فلورنس نے ایک بار پانچ سخت زخمی مریضوں کو ہسپتال میں بے یار و مددگار پڑے دیکھا۔ اس نے ایک ڈاکٹر سے اس کی وجہ پوچھی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ ی زیادہ زخمی اور موت کے منہ میں ہیں۔ ہمیں ان کے بچنے کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی ہے جبکہ دوسرے کم زخمی مریضوں کاعلاج کیا جا رہا ہے۔ فلورنس نے ان پانچ زخمیی سپاہیوں کو رات بھر کے لئے مانگ لیا۔ رات بھر ان کے زخموں کا علاج اور ان کی دیکھ بھال کرتی رہی ۔نتیجے میں وہ پانچوں مریض ہوش میں آگئے اور صبح تک آپریشن کے قابل ہوگئے۔
فلورنس کا جادو آپریشن تھیٹر میں بھی چلتا تھا جہاں اس کی موجودگی مریض کی ہمت بندھانے کا سبب بنتی تھی۔
مئی 1855 میں فلورنس چھ ماہ بعد سکوٹری سے بالا کلاوا چلی گئی جہاں تھامس نام کا ایک کم عمر لڑکا اس کا مددگار بنا اور اس نے اپنے فرائض بطریق احسن انجام دئیے۔ وہیں پر فلورنس نائٹ انگیل کو ڈاکٹروں کے بقول” کریمیا کے بخار“ نے جکڑ لیا۔ اس کی بیماری کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ مریض بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ کمانڈر انچیف لارڈریگلن نے بھی اس خبر کو نہایت اہمیت دی اور خود چل کر فلورنس کی عیادت کو آئے۔
کچھ عرصے بعد ایک فنڈ قائم ہوا جس میں فلورنس کو دئیے گئے تحائف اور غریب وامیر افراد کے چندے سے دس ہزار پاوٴنڈ جمع ہو گئے۔ فلورنس نے اس رقم سے فرانس میں 1857 ء کے متاثرین سیلاب کی مدد کی اور نرسوں کی ٹریننگ کا انتظام کیا۔ کریمیا کی جنگ میں اس کی خدمات سے متاثر ہو کر ملکہ وکٹوریہ نے اسے ایک خوبصورت ہیرا تحفے کے طور پر پیش کیا۔
کریمیا کی جنگ کے خاتمہ پر بھی حکومت اس کی خدمات کا اعتراف کرنے سے باز نہ رہ سکی۔ اب اس کی شہرت ہر طرف پھیل چکی تھی۔ وہ انگلینڈ واپس گئی تو اس کی صحت بہت خراب ہو گئی تھی۔ نومبر 1907 میں بادشاہ ایڈدرڈ ہشتم نے اسے آرڈر آف میرٹ کے اعزاز سے نوازا۔ اپنے آخری وقت میں بھی فلورنس انسانیت کے لئے کام کرتی رہی۔
وہ 13 اگست 1910 کو انتقال کر گئی۔ مشہور شاعر لانگ فیلو نیاس کی وفات پر ایک خوبصورت نظم کہی اور یوں اس عظیم خاتون کا سوگ منایا جس نے آسائشوں بھر زندگی ٹھکرا کر اپنے آپ کو انسانیت کے لئے وقف کر دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY