چین کا نئے ‘سلک روڈ’ منصوبے کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرنے کا عزم

0
128

چین کے صدر شی جنپنگ نے نئے سلک روڈ منصوبے کے لیے 124 ارب ڈالر دینے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد تجارت اور جامعیت کے ساتھ امن کی راہ متعین کرنے والا منصوبہ ہے۔

اتوار کو ایک بیجنگ میں ‘ایک پٹی ایک شاہراہ’ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی نے مخاصمت اور سفارتی قوت کے اظہار کے پرانے طریقوں کو ختم کرنے پر زور دیا۔

انھوں نے 2013ء میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ایشیا، افریقہ، یورپ اور دیگر خطوں کے درمیان اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے رابطوں کو فروغ دینا ہے۔

دو روز تک جاری رہنے والی یہ کانفرنس صدر شی کے لیے ایک اور موقع ہے کہ وہ چین کی راہنمائی کے ارادوں کو تقویت دے سکیں، کیونکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ “امریکہ مقدم” کی حمایت کرتے ہوئے آزادانہ تجارت کے معاہدوں پر سوال اٹھاتے آ رہے ہیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے صدر کا کہنا تھا کہ “ہمیں تعاون کا ایک آزادانہ موقع فراہم کرنا ہے اور عالمی اقتصادیات کو فروغ دینا چاہیے۔”

انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کو آزدانہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے ماحول بنانا ہو گا اور “شفاف، معقول، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے اصولوں پر مبنی” نظام کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔

اس موقع پر انھوں نے منصوبے کے لیے مزید ساڑھے چودہ ارب ڈالر دینے کا عزم بھی کیا جس سے اس منصوبے کے لیے ان کی طرف سے عہد کردہ رقم 124 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

اس کانفرنس میں روس کے صدر ولادیمر پوتن اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سمیت 29 ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ عہدیدارن شریک ہیں۔ تقریب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اپنے وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شریک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY