تمام ابلیس پرستوں سے معزرت کے ساتھ، کاظم کاظمی

0
1804

اخمد غزالی جو کہ طوس میں پیدا ہوا ۔اور فارسی ادبیات میں ایک سند مانا جاتا ہے اور سلسلہ نقشبندیہ کے صوفیا میں نمایاں مقام کا حامل ہے ۔کہیں ابلیس کو موحد اول کہہ بیٹھا اور ہم سے ہضم نہیں ہو رہا لہزا تمام ابلیس پرستوں سے معزرت کے ساتھ ذیل میں چند عرائض ہیں احباب کی نزر۔

جونکہ معاملہ دلچسپ تر ہے ظاہر ہے ابلیسی داستانیں دلچسپ ہی ہوا کرتیں ہیں۔البتہ بات مواحد اول کی ہے۔تو غزالی ہو یا کمالی اس کو شاید پتہ ہی نہیں کہ ابلیس مواحد اول بالکل نہیں تھا۔وہ مخلوقات عالم میں پہلا اناپرست خود پرست اور باغی تھا جس کو کسی بھی بے تکی منطق سے ڈیفنڈ نہیں کیا جا سکتا۔اس کا سجدہ نہ کرنا اور دلیل دینا کہ وہ آدم سے افضل ہے۔ وہ ایکسیپٹ ایبل ہی نہیں اگر آگ کو مٹی سے افضل بتا کر خود کو برتر ثابت کر رہا تھا آدم پر پھر بھی اس کا آگ سے بنا ہونا اس کے اختیار کی وجہ سے نہیں تھا اگر وہ اپنے اختیار سے آگ یا دوسری کسی بھی صنف سے بنا ہوتا تب تو بات تھی لیکن وہ تو آگ سے بننے کے لئے بھی خالق کی مرضی کا محتاج تھا۔اس کا اپنا ذاتی کیا کمال تھا۔کہ وہ اترائے کہ آگ سے بنا ہے۔دوسرے یہ کہ اس نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ تیرے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتا بلکہ وہ تو خالق کو بھول زاتی سٹیٹس کی دھاک بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ احد پرست تھا مگر کامل موحد نہیں تھا۔بہر حال اس پر طویل بات ہو سکتی ہے۔مگر معزرت سے غزالی ابھی فلسفہ توحید کے مکتب میں داخل ہی نہین ہوا تھا۔ جسکو وہ عالین جو در اصل توحید کے علمبردار تھے اس وقت جب نہ زمان تھا نہ مکان تھا مگر وہ تھے۔جن کی تسبیحات کی برکت سے ملائکہ و مخلوقات نورانی معرض وجود میں آرہی تھیں۔ان کی قطعا” معرفت نہین تھی ۔اور جن کے طویل عرصے بعد حضرت ابلیس کہیں جا کر پیدا ہوا۔اسی لیئے تو رب اکبر نے بلا تامل ابلیس سے یہی پوچھا”ام کنت من العالین” کیا تو عالین میں سے ہو گیا ہے کہ آدم کو سجدہ نہیں کیا۔(قران) ۔اس کا مطلب شیطان کا آدم کو سجدہ نہ کرنا اللہ کو نا پسند تھا جبکہ اسی لمحے جو عالین تھے ان کا آدم کوسجدہ نہ کرنا عین ان کی واحدانیت پرستی کی دلیل تھا اور انکی قبل از مخلوقات، اولین موحد وجود ہونے کا اشارہ تھا۔ اور بحکم خدائے حکیم ان کا سجدہ آدم سے استثنی از قران ثابت ہے اور یہی منظور و مقبول_ رب کریم تھا۔
بہر حال کسی بھی جسارت کی معزرت۔

کاظمیات۔

SHARE

LEAVE A REPLY