طارق بٹ ۔ بڑے میاں تو بڑے میاں

0
75

بڑے میاں تو بڑے میاں ۔۔۔ پاک وطن میں سیاسی حالات جتنی تیزی سے کروٹ بدل رہے ہیں اتنی تیزی سے تو بچوں کی نیپی نہیں بدلی جاتی ۔ مسائل اور موضوعات ہیں کہ لکھاری کو اپنی جانب کھینچے چلے جاتے ہیں کسی ایک موضوع کا انتخاب بہت دشوار ہو گیا ہے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد قلم کار ایک موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور کاغذ قلم تھام کے ابھی لکھنے بھی نہیں بیٹھتا کہ دیگر بیسیوں موضوعات ذہن میں اٹھکھیلیاں کرنے لگتے ہیں اور قلم کار بے چارہ ایک بار پھر اس شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کسے پکڑوں اور کس کو چھوڑوں۔

نواز شریف وزارت عظمی کے ساتھ ساتھ جماعت کی صدارت کے منصب سے بھی فارغ کر دیئے گئے اس سلوک نے انہیں اتنا زچ کر دیا ہے کہ اب وہ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ میرے پاس اب فقط ایک نام بچا ہے (محمد نواز شریف) یہ بھی چھین لو مجھ سے ۔ چہرے کی سنجیدگی اور لہجے کی تلخی یہ بتاتی ہے کہ زخم بہت گہرا لگا ہے اتنا گہرا کہ مندمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ ابھی نواز شریف پہلی چوٹ سے سنبھل نہیں پاتے کہ اوپر سے ایک اور تازہ چوٹ لگا دی جاتی ہے اور یہ نئی چوٹ بھی پہلے زخم پہ لگائی جاتی ہے اسی لئے تو زخم مندمل نہیں ہو رہا۔ مرہم لگانے کو باقی قیادت کے ساتھ ان کے برادر خورد شہباز شریف بھی موجود ہوتے ہیں مگر وہ مرہم لگاتے ہوئے زخم کو ایک دو کھرونچیں بھی لگا دیتے ہیں جس سے زخم تازے کا تازہ ہی رہتا ہے ۔

ساری زندگی برادر کلاں کی تابعداری کرنے والے برادر خورد شہباز شریف کے من میں وزارت عظمی کی خواہش نے ایسی انگڑائی لی کہ انہوں نے اسی حکیم سے دوا لینے کی ٹھان لی جو ان کے برادر کلاں کا جیون اجیرن کئے ہوئے ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ جب بڑے میاں قبول نہیں تو پھر مجھ میں وہ کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو پیا من بھانے لگے ۔ ایسے میں اکثر ہوتا یہی ہے کہ انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے ۔ گو کہ چھوٹے میاں میں ایک اچھے منتظم کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہیں جس کا ثبوت پنجاب کے خادم اعلی کے طور پر وہ اپنے موجودہ اور سابقہ ادوار میں دے چکے اور ان صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی کیا جاتا ہے خصوصا ترکی اور چین کے موجودہ حکمران ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن صلاحیتوں کا وہ مظاہرہ کر رہے ہیں اس کے لئے جس منصب یعنی وزارت اعلی کی ضرورت ہے وہ ان کا اپنا حاصل کردہ نہیں بلکہ بڑے میاں کا دیا ہوا ہے ۔

صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اس حقیقت کو بسر و چشم تسلیم کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ نواز کا تقریبا 80 فیصد ووٹ نواز شریف کے نام پر ملتا ہے باقی 20 فیصد کے قریب ووٹ مختلف انتخابی حلقوں کی مناسبت سے مختلف سیاسی شخصیات کے ذاتی اثرورسوخ کو دیا جا سکتا ہے مذکورہ دعوے کے ثبوت کے لئے کچھ زیادہ جمع تفریق کی ضرورت اس لیے نہیں کہ گذشتہ تمام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں جب کچھ شخصیات نے نواز شریف سے ہٹ کے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا تو وہی نتیجہ اور اوسط سامنے آئی جس کا اس درویش نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ تمام تر آزاد اور غیر جانبدار ذرائع بلا مبالغہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ 28 جولائی 2017 کو عدالت عظمی کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے جو موقف اپنایا اسے زبردست عوامی پذیرائی حاصل ہوئی اور نواز شریف کے ووٹ میں بھی کافی اضافہ ہو چکا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت لودھراں کا ضمنی الیکشن ہے جہاں ان کے ووٹ میں تقریبا 67 ہزار کا اضافہ ہوا۔

نواز شریف کے جس بیانیے کو سیاسی حلقوں میں قبول عام اور قبول عوام سمجھا جا رہا ہے اس کی چھوٹے میاں اور ان کے دبنگ خان (چودھری نثار علی خان )روز اول سے مخالفت کر رہے ہیں اس لئے کہ انہیں حکیم کی حکمت پر کامل بھروسہ ہے اس بھروسہ کی وجہ حکیم صاحب کی شخصیت یا ذات نہیں بلکہ وہ مطب ہے جہاں حکیم تو بدلتے رہتے ہیں مگر چھوٹے میاں اور دبنگ خان کی حاضری دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں مطب میں جاری رہتی ہے اور اکثر اس مطب سے یہ دونوں سیاسی سانسیں اور توانائی کی بحالی کے لئے کوئی نہ کوئی کشتہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اور اس بات سے بڑے میاں بخوبی آگاہ ہیں کہ ان سے بالا بالا چھوٹے میاں اور دبنگ خان کون سا کھیل کھیلنا چاہ رہے ہیں انتہائ باوثوق ذرائع کے مطابق چند ماہ پہلے جب بڑے اور چھوٹے میاں دونوں برطانیہ میں تھے تو چھوٹے میاں نے وہاں سے بھی یہاں حکیم صاحب سے رابطہ کر کے اپنے لیے نسخہ کیمیا کی گذارش کی تھی مگر چھوٹے میاں کی بدنصیبی کہ اس ٹیلی فونک رابطے کا بڑے میاں کو بھی پتا چل گیا اور جب بڑے میاں نے اس پر چھوٹے میاں سے جوابدہی چاہی تو چھوٹے میاں کو معافی مانگنا پڑی یہ تو بڑے میاں کی اعلی ظرفی اور محبت تھی کہ انہوں نے چھوٹے میاں کو پھر سے گلے لگا لیا۔

گو کہ بڑے میاں کے بارے میں عام مشہور یہی ہے کہ وہ دل میں ایک بار پڑے کدورت اور شک کے بال کو نکالا نہیں کرتے مگر برادر خورد کے لئے انہوں نے ایک لمبے موچنے کو استعمال میں لاتے ہوئے خود ہی اپنے دل میں پڑے بال کو نکال باہر پھینکا ہے اس سلسلے میں انکی صاحبزادی مریم نواز شریف کی التجاہیں بھی رنگ لائی ہیں جنہوں نے اپنی دادی جان محترمہ کو بیچ میں لا کر معاملات کو سدھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے یوں بڑے میاں نے اپنے سر سے عدالت عظمی کے ذریعے چھینا ہوا مسلم لیگ نواز کی صدارت کا تاج چھوٹے میاں کے سر پر سجا دیا ۔ لیکن اس تاج کے حصول کے لئے چھوٹے میاں کو اپنے معتدل اور اداروں سے ٹکراؤ نہ کرنے کے موقف سے ایک لمبا یو ٹرن لے کر اس موقف کا ساتھ دینا پڑے گا جو بڑے میاں اور ان کی صاحبزادی اس وقت بازار سیاست میں بیچ رہے ہیں اسی لئے تو اپنی صدارت کے اعلان کے بعد خود چھوٹے میاں نے بڑے میاں کو اپنا اور مسلم لیگ نواز کا تاحیات قائد تسلیم کیا ہے تو دوستو اب یہ طے ہو گیا ہے کہ جس جس نے مسلم لیگ نواز میں رہنا ہے اسے وہی بیانیہ اپنانا ہو گا جو بڑے میاں کا ہے اور 2018 کے انتخابات اگر ہوئے تو الیکشن کمپین اسی بیانیے پر چلائی جائے گی۔

بڑے میاں کی سیاسی بصیرت اور دور بین نظر آنے والے حالات کو پہلے سے بھانپ چکی تھی وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ اب اپنی ذات کے لئے پارلیمانی سیاست کا دروازہ کھولنے کے لئے انہیں پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہر حال میں درکار ہو گی کہ اس کے بغیر آئینی ترمیمات ممکن نہیں مزید وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو کشتے دینے والے حکیم چھوٹے میاں کو صرف لارا لپا لگا رہے ہیں اور چھوٹے میاں اپنے دوست دبنگ خان کے ساتھ حکیم کے جھانسے میں آئے ہوئے ہیں دوا ملنی نہیں بلکہ عین وقت پر نئی بیماریوں کا اعلان کر دیا جائے گا اور ہوا بھی یہی کہ نیب نے اب چھوٹے میاں کو دانت دکھانے شروع کر دئے ہیں۔ حالات کس نہج پر پہنچیں گے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ یہ طے ہے کہ اگر اس بھنور میں سے ڈوبتی کشتی کو نکالنا ہے تو بڑے اور چھوٹے میاں دونوں کو مل کر چپو چلانے ہوں گے اور وہ بھی ایک ہی سمت میں ورنہ ان کی سیاسی کشتی بیچ سمندر میں ڈولتی رہے گی کبھی بھی کنارے پر نہیں پہنچ پائے گی۔ یوں بڑے میاں کے ساتھ ساتھ چھوٹے میاں کو بھی ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

طارق بٹ

SHARE

LEAVE A REPLY