نو مئی کے ملزمان کی سزا میں کمی: کیا اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی دُوریاں کم ہو رہی ہیں؟

0
840

نو مئی 2023 کو عسکری تنصیبات پر حملوں کے الزام میں فوج کے زیرِ حراست 20 افراد کو عید سے قبل رہا کر دیا گیا ہے۔ بعض حلقے اسے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے ریلیف قرار دے رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے رہنما اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق فوجی عدالتوں نے ایسے 20 ملزمان کو بری کر دیا ہے جنہیں نو اور 10 مئی کے واقعات میں فوجی عدالتوں نے ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 17 ملزمان نے ساڑھے 10 ماہ اور تین نے ساڑھے نو ماہ قید کاٹی ہے جب کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے آرمی ایکٹ کے تحت ملزمان کی بقیہ سزائیں معاف کر دی ہیں۔

دستاویزات میں شامل فہرست میں ان 20 افراد کے نام درج ہیں جنھیں چھ اور سات اپریل کو بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا سے رہا کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نو اور 10 مئی کے حملوں پر فوجی عدالتوں نے راولپنڈی کے آٹھ، لاہور کے تین، گوجرانوالہ کے پانچ، دیر کے تین اور مردان کے ایک ملزم کو ایک، ایک سال قید بامشقت کی سزا دی تھی۔

واضح رہے کہ 28 مارچ کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ نو مئی کے 103 ملزمان میں سے 20 کو رہا کر دیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY