نئے سال کا پیغام ایرانی اعلیٰ رہنما کا جنگ کے سائے میں؛ نئے علاقائی نظم میں پاکستان کا کردار
جمہوری اسلامی ایران کے نو منتخب رہبر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا نوروزی پیغام محض ایک رسمی خطاب نہیں بلکہ ایک ایسے پیچیدہ اور کثیرالجہتی جنگی ماحول میں مستقبل کی علاقائی سمتوں کا واضح اشارہ ہے۔ اس پیغام میں خطے کی نئی بنتی ہوئی صورتِ حال اور اہم ریاستوں کے کردار کی ازسرنو تشکیل کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کا نام خاص اہمیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
اس پیغام کے مطابق حالیہ تجربات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بیرونی دباؤ، عسکری حملوں اور اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے بلکہ بعض صورتوں میں داخلی یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ نکتہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے، جہاں داخلی استحکام براہ راست بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔
موجودہ بحران صرف ایک فوجی تصادم نہیں بلکہ ایک “ہائبرڈ جنگ ہے، جس میں عسکری، سیکیورٹی، اقتصادی اور میڈیا کے پہلو شامل ہیں اور اس کے اثرات پورے خطے میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اس سال کے شعار کے حوالے سے کہا: “قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت”۔ ہمارے عظیم رہنما، شہید بلند مقام، مختلف برسوں میں سال کا شعار معیشت کے محور پر منتخب کرتے رہے ہیں۔ اس ناچیز کی نظر میں بھی عوام کی معیشت کی بہتری روزمرہ زندگی کی بنیادوں، خوشحالی اور دولت کی پیداوار کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور دشمن کی اقتصادی جنگ کے مقابلے میں ایک دفاعی ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی کا وسیلہ بھی ہے۔ مجھے یہ موقع ملا کہ میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی باتیں سنوں۔ کچھ عرصہ ایک نامعلوم ٹیم کے ساتھ، جو میری درخواست پر ٹیکسی میں موجود تھی، میں تہران کی سڑکوں پر آپ کے ساتھ رہا اور آپ کی گفتگو سنی۔ میں اس طریقۂ نمونہ گیری کو دیگر طریقوں سے بہتر سمجھتا ہوں۔ متعدد معاملات میں میری سوچ آپ کی اُن باتوں سے ہم آہنگ ہے جو آپ نے اقتصادی اور انتظامی امور پر تنقید کی صورت میں بیان کیں۔ میں نے اس حوالے سے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے اور مزید سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
تاہم اس پیغام کا سب سے اہم پہلو وہ حصہ ہے جس میں پاکستان کے بارے میں واضح اور براہِ راست گفتگو کی گئی ہے۔ اس میں نو منتخب رہنما سید مجتبیٰ خامنہ ای کہتے ہیں: ہم اپنے مشرقی ہمسایوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ مجھے طویل عرصے سے معلوم ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس سے ہمارے شہید رہبر کو خاص لگاؤ تھا۔ اس کی ایک مثال آپ کے خطباتِ جمعہ میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے وقت آپ کی آواز کا رنج و الم سے بھر جانا ہے۔ میں خود بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اسی رائے کا حامل ہوں اور مختلف مجالس میں اس کے اظہار سے گریز نہیں کرتا۔ یہاں میں اپنے دو برادر ممالک، افغانستان اور پاکستان، سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں، چاہے صرف رضائے الٰہی کے لیے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اور میں اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہوں۔
اس پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران اپنے مشرقی ہمسایوں کو اپنے قریب سمجھتا ہے اور خاص طور پر پاکستان کو نمایاں اہمیت دیتا ہے، جو سابق رہبر کے نزدیک بھی ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات، خصوصاً تباہ کن سیلاب کے حوالے سے ان کے جذباتی ردِعمل کا ذکر دونوں ممالک کے درمیان گہرے انسانی اور سیاسی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، پیغام میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری پر زور دیا گیا ہے اور اسے نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تعاون کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جو اس لیے اہم ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات براہِ راست سرحدی سلامتی، استحکام اور علاقائی اقتصادی روابط پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس پیغام کا ایک اور اہم پہلو ممکنہ “فالس فلیگ” آپریشنز کے حوالے سے خبردار کرنا ہے، جن کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ ترکی اور عمان جیسے ممالک کی مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتہائی محتاط سفارتی اور سیکیورٹی حکمتِ عملی اختیار کرے۔
مجموعی طور پر یہ پیغام علاقائی یکجہتی اور تعاون بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جنگ کے دنوں میں امریکی صدر کے مضحکہ خیز رویّوں اور جھوٹ کا اصل مقصد
تحریر: احمد رضوی
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کو 29 دن گزر چکے ہیں اور اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ واشنگٹن کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی میں ایک سنگین اسٹریٹیجک ناکامی رونما ہوئی ہے۔ یہ ناکامی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ بیانیہ سازی اور عوامی رائے کے محاذ پر بھی نمایاں ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں امریکی صدر، کے بیانات اور طرزِ عمل میں جو تضاد، مبالغہ آرائی اور حتیٰ کہ تمسخر دکھائی دیتا ہے، اسے محض ان کی شخصیت کا عکس نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی و میڈیا حکمتِ عملی کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں ہی میں جب یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ کے ابتدائی اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں اور مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے، تو ٹرمپ کے لہجے اور انداز میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ یہ تبدیلی دراصل ایک “غلط اندازۂ حساب” کا نتیجہ تھی، جس کی بنیاد ایران کو دیگر ممالک کے ساتھ غلط موازنہ کرنا تھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر رہبر انقلاب اسلامی مرد الہی شہید سید علی خامنهای رح، کی جانب سے بار ہا زور دیا گیا کہ ایران کو عام علاقائی طاقتوں کے پیمانوں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔
ایسے پس منظر میں ٹرمپ کے حالیہ بیانات—جو غیر سنجیدہ، متضاد اور بعض اوقات مضحکہ خیز محسوس ہوتے ہیں—کو ایک “انحرافی حکمتِ عملی” کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد جنگ کی زمینی حقیقتوں سے عوامی توجہ ہٹانا ہے، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھاری اخراجات اور محدود کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
یہ “سیاسی مسخرہ بازی” بیک وقت کئی مقاصد پورے کرتی ہے۔ اول، ایک ایسا میڈیا ماحول پیدا کرنا جس میں سنجیدہ تجزیہ پس منظر میں چلا جائے اور عوام کی توجہ شور و غوغا اور غیر سنجیدہ بیانات کی طرف مبذول ہو۔ دوم، مخالف فریق کو سنجیدہ جواب دینے کے بجائے تمسخر اور تحقیر کے ذریعے کمزور ظاہر کرنے کی کوشش۔ سوم، امریکی داخلی رائے عامہ کو سنبھالنا، جو اس جنگ کے نتائج پر بتدریج زیادہ تنقیدی ہوتی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بڑی طاقت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ “بیانیہ کی تشکیلِ نو” کا سہارا لیتی ہے۔ کبھی یہ عمل میڈیا اور تجزیاتی بیانیوں کے ذریعے انجام پاتا ہے اور کبھی—جیسا کہ یہاں دیکھا جا رہا ہے—غیر روایتی انداز، مبالغہ آرائی اور طنزیہ طرزِ بیان اختیار کر کے۔ اگرچہ یہ طریقہ وقتی طور پر توجہ ہٹا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں زمینی حقائق کو چھپا نہیں سکتا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس قسم کے غیر سنجیدہ طرزِ عمل اور بیانات نہ تو ایران کے مقام و مرتبہ کو عالمی سطح پر متاثر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے حق میں پیدا ہونے والی عوامی ہمدردی کو کم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، یہ مسخرہ بازی نہ تو زمینی حقائق کو بدل سکتی ہے اور نہ ہی اس جنگ کے نتائج کو کسی اور رخ پر لے جا سکتی ہے۔
آخرکار، موجودہ صورتحال محض ایک مخصوص سیاسی انداز نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے ایک گہرے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ مسخرہ بازی اور جھوٹ وقتی طور پر بیانیہ کو متاثر کر سکتے ہیں، مگر یہ حقیقی کامیابیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔ عالمی رائے عامہ بالآخر حقیقت اور دکھاوے کے درمیان فرق کو ضرور پہچان لے گی۔













