عالمی عدالت انصاف یعنی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس میں شامل پاکستان کے وکیل خاور قریشی اور بھارت کے وکیل ہریش سالوے کے درمیان چھوٹی لیکن ایک تاریخی لڑائی ہے۔
آئی سی جے کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلے سے ایسا لگتا ہے کہ ہریش سالوے کو خاور قریشی پر برتری حاصل ہے کیونکہ عالمی عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مکمل فیصلہ آنے سے قبل کلبھوشن یادیو کو پھانسی نہ دے۔
آج سے تقریباً 15 سال قبل ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا تھا جب بھارت کو دبھول پاور پروجیکٹ کے بند ہونے پر اینرون نامی کمپنی کی درخواست پر امریکا میں بنائی گئی ایک عالمی عدالت میں ثالثی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس موقع پر بھات کے کروڑوں ڈالر داؤ پر لگے تھے، اگرچہ ہریش سالوے نے 2002 میں بھارت کے قونصل جنرل کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا لیکن وہ اس ثالثی عدالت میں بھارت کے وکیل کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سالوے سے عالمی ثالثی عدالت میں اس کیس کی سماعت کے لیے بھارت کی پیروی کرنے کے لیے پوچھا گیا جس کے جواب میں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیس لڑنے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ وہ اس کیس کے لیے حکومت سے رعایتی فیس وصول کرتے ہوئے محض ایک لاکھ بھارتی روپے فی سنوائی لیں گے۔
تاہم 2004 میں یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کی حکومت بننے کے بعد بھارتی سرکاری وکلاء کی ٹیم بھی نئے اٹارنی جنرل ملن بنیرجی کی قیادت میں تبدیل ہوئی اور اینرون کے خلاف دبھول پاور پروجیکٹ میں بھارتی حکومت نے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے فوکس اینڈ منڈل لاء فرم کا سہارا لیا اور خاور قریشی کی خدمات حاصل کرنے کا کہا گیا۔
لیکن بھارت نہ صرف اپنا کیس ہار گیا بلکہ خاور قریشی کو بطور فیس دی گئی کثیر رقم بھی ضائع ہوگئی۔
اس حوالے سے سالوے نے بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو تصدیق کی کہ وہ اُس وقت حکومت بدلنے کے باوجود بھارت کا کیس لڑنے کے لیے تیار تھے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت میں بھارت کا دفاع کرنا ایک پیشہ ورانہ فیصلہ تھا لیکن مجھے تو میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا کہ خاور قریشی کو ہائر کیا گیا ہے اور میں ان کا ڈپٹی مقرر کیا گیا ہوں، لہٰذا میں نے اپنے آپ کو اس کیس سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا اور بھارت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ہریش سالوے نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا کہ کس طرح 2004 میں ان کی جگہ خاور قریشی کی خدمات حاصل کی گئیں۔
برطانوی جریدے ’دی لائر‘ کے مطابق سرلے کورٹ چیمبر کے وکیل خاور قریشی کو بھارتی حکومت کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔
اس لاء فرم کے سابق ترجمان نے بتایا کہ نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے فوراً بعد ہی پوری قانونی ٹیم بھی تبدیل کر دی گئی تھی۔
Dawn













