ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے وزیر اعظم نواز شریف سمیت تمام 30 اسلامک ممالک کے سربراہان سے امریکا۔ عرب اسلامی کانفرنس کے دوران تقریر کے موقع نہ دینے پر معذرت کرلی۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ وقت کی کمی کے باعث 30 ممالک کے رہنما سعودی عرب میں منعقدہ اجلاس سے خطاب نہیں کرسکے اور اس پر شاہ سلمان نے ذاتی طور پر تمام شرکا سے معذرت بھی کی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ اتوار کو ریاض میں پہلی امریکا ۔ عرب اسلامک کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے نواز شریف کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

اس دورے پر وزیر اعظم کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز، صاحبزادے حسین نواز، وکیل اکرم شیخ، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس سربراہی اجلاس میں شاہ سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ مسلم دنیا کے 55 سربراہان مملکت بھی شرکت کے لیے مدعو کیے گئے تھے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک نوجوان کو جیپ کے آگے باندھ کر ڈھال بنانے والے فوجی افسر کو بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے ایوارڈ دیئے سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’یہ ایک جرم اور انسانیت کی تذلیل ہے، یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی فورسز نے بزدلانہ اور انسانیت سوز رویے کا مظاہرہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایک تلخ حقیقت ہے، جبکہ مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کے حوالے سے سوال پر نفیس زکریا نے کہا کہ ’پاکستان عالمی عدالت انصاف میں کیس نہیں ہارا، کلبھوشن یادیو اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں، جبکہ بھارت کے کلبھوشن کے حوالے سے دعوے غلط ہیں۔‘

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد کی پالیسی پر کاربند ہے اور اگر رکن ممالک کے درمیان حالات خراب ہوتے ہیں تو پاکستان ثالثی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY