بے نظیر بھٹو۔35سال کی عمر میں پہلی کم عمر خاتون وزیر اعظم

0
609

اکیس جون، 1953 کراچی میں پیدائش۔۔1969-73ء کیمبرج میں ریڈمکف کالج، میسا چوسٹس سے بی اے کی ڈگری لی۔۔1973-77ء آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہیں۔۔۔1971-77ئبے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم رہے۔۔۔1977ء جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کردی۔۔۔1979ء ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔۔۔1984ء بے نظیر کو ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی اور وہ برطانیہ چلی گئیں اور اپنے والد کی پیپلز پارٹی جانشین رہنما بن گئیں لیکن پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد ہی وہ موثر ہوسکیں۔

اٹھارہ جولائی کو شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت کی خبر آئی، مرتضیٰ بھٹو نے کہا کہ ان بازو کٹ گیا۔۔۔1987ء18 دسمبر بے نظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی ہوئی۔۔1988ء اگست پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرلی۔۔۔1988ء 2 دسمبر محترمہ بے نظیر بھٹو نے تاریخ کی سب سے کم عمر اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔۔۔1990 ء 6 اگست صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کردیا۔۔۔1990ء 10 اکتوبر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا گیا۔۔۔

انیس سو ترانوے اکتوبر میں پیپلز پارٹی دوبارہ انتخابات میں کامیاب ہوئی، بے نظیر بھٹو 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہیں۔۔۔شام سے بے نظیر کے جلاوطن بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے واپس آنے سے انہیں مشکلات کا سامنا ہوا کیوں کہ ان کی والدہ نصرت بھٹو بیٹے کی طرف داری کرتی تھیں میر مرتضیٰ بھٹو کو آتے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا مرتضیٰ پر پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کا الزام بھی تھا جب انتخابات میں میر مرتضیٰ نے نشست حاصل کرلی تو انہیں رہا کردیا گیا۔۔۔1996ء کرپشن کے الزامات پر بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کردی گئی، سوئس بنکوں کے ذریعے سرکاری رقم خوردبرد کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا، ان کے شوہر 8 سال تک کرپشن کے الزام میں جیل میں رہے۔۔۔۔ انیس ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ کو قتل کردیا گیا۔۔۔

سن دو ہزار دو میں انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے،مگر وہ حکومت نہیں بناسکیں سندھ میں بھی زیادہ تر نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت نہیں بناسکیں۔۔۔2004ء کوآصف علی زرداری کو جیل سے رہا کردیا گیا۔۔۔2004ء دسمبر میں آصف زرداری کے آنے سے پانچ سال کے بعد یہ خاندان بے نظیر تینوں بچے اور شوہر یک جا ہوئے۔۔۔2007ء بے نظیر نے عہد کیا ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں گی اور آنے والے انتخابات میں حصہ لے کر وزیر اعظم بنیں گی۔۔۔ 2007ء 27 جنوری کو انہیں امریکا نے دعوت دی کہ وہ وہائٹ ہاؤس آکر صدر بش ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن ہنماؤں سے ملاقات کریں

27بتاریخ دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ بینظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY