نئے سال کی خوشی میں ایک کپ چائے ھو جاتا تو کیا اچھا تھا؟
ساتھ لیٹی بیگم کو آواز دی ۔فرمائش کے جواب میں خوابیدہ فہمائش ھوئی
“یہ کوئی وقت ھے چائے کا، پہلے ھی جاگ رھے ھو ،پھر تو بالکل بھی نیند نہیں آئے گی ،سونے کی کوشش کرو”
ٹھیک ھی تو کہا، دنیا میں لوگ بئیر میں وھسکی مکس کر رھے ھیں ۔اور میں دودھ میں پتی کا سوچ رھا ھوں ۔
میں نے ایک بار پھر ٹی وی آن کیا ۔خاموشی سے تمام چینلز کا سروے کیا ۔ ابھی بھی پٹاخے پھوڑے جارھے تھے ۔دو بج گئے ۔بارہ تو ھمیشہ ھی بجے رھتے ھیں ۔جہاں نو انچ چیر کر پیچ لگائے گئے تھے، وھاں خارش ھو رھی تھی ۔ بالکل پڑوسن کی محبت کی طرح، آپ محسوس تو کر سکتے ھیں، کھجا نہیں سکتے ۔پٹی بندھی تھی ۔
اور جہاں پیچ لگا کر کندھے میں گھومنے والا بال جوڑا گیا تھا، وھاں درد تھا ۔بال کا درد بہت زیادہ ھوتا ھے ۔بچپن کی ایک لڑائی میں پتہ چلا تھا ۔اب بڑھاپے میں پتہ چلا کہ ھر جوڑ میں ایک بال ھے ۔
چائے بن سکتی ھے ۔بس ذرا سی ھمت کی ضرورت ھے ۔کچن تک جانا ھے ۔ڈاکٹر نے اتنا بری طرح باندھا ھے کہ اپنا آپ الیکٹرونک میڈیا لگنے لگا ھے ۔دائیں ھاتھ کی بس انگلیاں باھر ھیں ۔جنہیں صرف چھبویا جاسکتا ھے ۔ان سے کسی اچھے برے اشارے کی امید بھی فضول ھی سمجھیں ۔دوسرے ھاتھ کی پشت پہ برنولہ لگا ھوا ھے ۔جو انجکشن کیلئے انڈر پاس کا کردار ادا کرتا ھے ۔جتنے سوراخ کرکے یہ ایک لگایا گیا ۔اتنے میں تیرہ انجکشن لگ سکتے تھے ۔ٹیپ کے ساتھ اسے ھاتھ سے اس طرح باندھا گیا ھے کہ ھاتھ لڑائی کے بعد یاد آنے والی “چپیڑ”جیسا ھوگیاھے۔جو صرف اپنےمنہ پہ ماری جاسکتی ھے۔
میں کچن تک جا سکتا ھوں، اگر کمبل سے نکل جاؤں ۔
میں نے بائیں ھاتھ سے مرحلہ وار کمبل اس طرح ھٹانا شروع کیا کہ دائیں ھاتھ کو خبر نہ ھو ۔سردی کی لہر نے بھانڈا پھوڑ دیا ۔ایک کراہ سی نکلی ۔میں نے یوں سہہ لی جیسے پی ٹی آئی کو ووٹ دیکر مہنگائی کو سہا تھا ۔اب بستر سے درویش کو اٹھنا درپیش تھا،
چار پانچ ناشائستہ قسم کی کراھوں کے بعد میں اٹھ گیا ۔کچن تک میں اس طرح پہنچا جیسے حاملہ لیبر روم تک ۔
کتیلی میں پانی ڈالا ۔پتی نو ڈبوں کی تلاشی کے بعد ملی ۔چینی کی تلاش موٹے، باریک نمک کو چکھنے کے بعد پوری ھوئی ۔
اب گیس کھولی ۔کھلی رھی ۔ لائیٹر جلایا، بھپک کی آواز، سے چولہا جلا، بیساختہ جھٹکے سے پیچھے ھٹا تو درد سے چیخ نکل گئی ۔ناقابل برداشت، کچن کے فرش پہ بیٹھ کر خود کو سہلایا، تب تک میرے نسخے کو جوش آگیا، فریج سے دودھ نکالا، اور ڈال دیا ۔
چائے تیار ھوئی تو بے پناہ درد کے ساتھ کپ لئے کمرے میں آگیا، سائیڈ ٹیبل پہ کپ رکھا، کمبل سے خود کو لپیٹا، اور پہلا سپ لیا،
درد اب بھی وھیں تھے ۔
“چائے پی رھے ھو ”
بیگم نے کروٹ بدل کر پوچھا،
“ھاں ۔بس دل چاہ رھا تھا ”
میں نے جواب دیا،
“مجھے کہتے، میں بنادیتی ،کتنی بار سمجھایا ھے کہ رات کو خود نہ اٹھا کرو ۔میں کس لئے ھوں ۔”
رات کے تین بجے میں کیا جواب دوں ؟
سلیم مرزا













