حسین نواز ایک بار پھر جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش

0
881

وزیر اعظم کےصاحبزادے حسین نواز ایک بار پھر جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے۔

وزیراعظم کےصاحبزادے حسین نوازکوآج جےآئی ٹی نےطلب کررکھا تھا۔ 6 ارکان پر مشتمل جے آئی ٹی نے28مئی کو انہیں اپنی کمپنیوں اور پراپرٹیزکاریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی تھی۔

نیشنل بینک کے صدر سعید احمد بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

اس موقع پرمسلم لیگ ن کےکارکنان بھی بڑی تعداد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہرموجودتھی۔

جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حسین نواز قانون کی پاسداری میں پیش ہوگئے۔گواہ پرجےآئی ٹی ارکان نے دباؤ ڈالا۔

دانیال عزیز نے کہا کہ قانون سے بالاحرکات کی نشاندہی سپریم کورٹ میں کی ہے۔ وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع سے بیان واپس لینے کو کہا گیا،گواہوں سےایسا سلوک قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ حسین نوازتمام کاغذات لے کرآئے ہیں۔وہ تمام سوالات کے جواب دیں گے۔جن ممبران پرتحفظات ہیں انکواس تحقیقات سےخود کوعلیحدہ کرلینا چاہیے تھا۔ہم نے اپنے تحفظات عدالت کے سامنے پیش کردیے ہیں۔

آصف کرمانی نے کہا کہ ہم نے عدالتوں کا احترام کیا ہے،کبھی دباؤ نہیں ڈالا،ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے دو ارکان پر عتراضات اٹھائے تھے، حسین نواز کا اعتراض تھا کہ ایس ای سی پی کے نمائندے بلال رسول کی سیاسی وابستگیاں ہیں۔

بلال رسول پی ٹی آئی رہنما میاں اظہر کے بھتیجے ہیں اور سرکاری ملازم ہونے کے باوجود بلال رسول موجودہ حکومت کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں، بلال رسول کی اہلیہ بھی پی ٹی آئی کی متحرک کارکن ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے عامر عزیز پر حسین نواز کا اعتراض تھا کہ مشرف دور میں عامر عزیز حدیبیہ پیپر ملز کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے۔

عامر عزیز نے تحقیقات کے دوران وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو دھمکایا اورپاناما کیس میں بیان حلفی واپس لینے کیلئےبھی کہا تھا۔

سپریم کورٹ نےگذشتہ روز حسین نواز کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پاناما کیس میں جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر جے آئی ٹی کا کوئی رکن تبدیل نہیں ہو گا۔ شکوک کی بنیاد پر کسی کو جے آئی ٹی ٹیم سے نہیں نکالا جاسکتا، اگر ایسا کیا تو پھر تحقیقات کیلئے آسمان سے فرشتے بلانے پڑیں گے۔ عدالت نے کہاکہ حماد بن جاسم پیش نہ ہوئے تو قطری خط ردی ہوجائےگا

SHARE

LEAVE A REPLY