نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے

0
654

سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے لندن سے اسلام آباد پہنچ گئے ،پنجاب ہاؤس پہنچنے پر گورنر پنجاب رفیق رجوانہ سے ملاقات اور سینئر پارٹی رہنماؤں سے اہم مشاورت جاری ۔
نوازشریف کے طیارے نے 8 بجکر 15 منٹ پر اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کیا، اس موقع پر راجہ ظفر، الحق، پرویز رشید، سعد رفیق، مشاہد اللہ خان، چوہدری تنویر، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور میئر اسلام آباد شیخ انصر سمیت دیگر رہنماؤں نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ جہاں سے وہ ایپرن سے ہی اپنی ذاتی گاڑی میں اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس روانہ ہوگئے۔
سابق وزیراعظم نے اپنی آمد کے بعد ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں مختصر قیام کیا جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی اور پھر گاڑیوں کے قافلے میں ایئرپورٹ سے روانہ ہوگئے۔
پنجاب ہاؤس پہنچنے پر نواز شریف سے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے ملاقات کی جب کہ ملاقات میں پرویز رشید، سعدرفیق، زاہد حامد، انوشہ رحمان بھی موجود تھیں۔
نوازشریف پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کے اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کریں گے اور دن بھر ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری رہیں گی۔
مسلم لیگ کے رہنماؤں کی بڑی تعداد پنجاب ہاؤس میں موجود ہے جن میں طلال چوہدری، امیر مقام، مرتضیٰ جاوید عباسی اور دیگر پارٹی رہنما بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں،نیب حکام زیادہ سے زیادہ سمن کی تعمیل کرائیں گے، جبکہ آصف کرمانی کے کہ ہم اپنا فرض پورا کرنے آئے ہیں نیب والے اپنا کریں گے۔
نواز شریف کی آمدسے قبل ایئر پورٹ پر موجود مئیر اسلام آباد شیخ انصر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ میاں نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے ہیں ،تاہم ان کی گرفتاری کا امکان نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ حسین اور حسن نوازکا نیب ریفرنسزمیں پیش نہ ہونے کا فیصلہ اپنا ہے۔
نواز شریف کی آمد سے قبل اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی تھی جب نیب راولپنڈی کی ٹیم کو اسلام آباد ایئرپورٹ آنے سے روک دیا گیا ہے،جس کے بعد نیب ٹیم کو پنجاب ہاؤس سے سمن کی تعمیل کروانے کی ہدایت کر دی گئی ۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ نیب ٹیم کو ڈی جی نیب راولپنڈی کی ہدایت پر ایئرپورٹ آنے سے روکا گیا ہے۔اس سے قبل 10رکنی نیب ٹیم نے اسلام آباد ایئرپورٹ حکام سے جہاز تک رسائی کی درخواست کی تھی۔
روانگی سے قبل لندن میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سے اس حوالے سے صحافیوں نے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی چیزیں پہلے بھی دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ انھیں طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں بھی 27 سال کی سزا ہوئی تھی، وہ سزا کس قانون کے تحت دی گئی تھی؟ ایک سیکنڈ میں منتخب وزیراعظم کو ہائی جیکر بنادیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY