سانولی بلکہ یوں کہنا چاہیے ۔کہ پکی رنگت، جھریوں بھرا چہرا،
گردش دوراں کی بخشی ہوئی سختی، جو چہرے پر ثبت ہو کر رہ گئی ۔
آنکھوں میں نرمی اور پیار، ہاتھ کسی محنت کش مزدور کے سے سخت اور رگیں ابھری ہوئی ۔تو یہ تھیں ہماری پھپھو اماں جن کا اصل نام سردار بیگم تھا ۔جوانی میں بیوہ ہو گئیں ۔ایک بیٹی تھی جو باپ کے مرنے کے چند ماہ بعد پیدا ہوئی ۔سر پر چھت اپنی تھی ۔سو محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرنے لگیں ۔لالٹین کی روشنی میں ساری ساری کبھی لحاف میں ڈورے ڈالتیں تو کبھی کارگاہ لے کر ناڑے یعنی آزار بند بنانے لگتیں ۔بھائی نے لے جانا چاہا اپنے ساتھ مگر غیرت نے گوارا نہیں کیا ۔چند سال گزرے تو پہلے ایک بھابھی فوت ہوئی ۔پھر سال دوسال کے عرصے میں دوسری بھابھی بھی ایک بیٹا چھوڑ کر فوت ہو گئ ۔تو اب بھائی یعنی ڈیڈی نے ایک نہ سنی ۔اور زبردستی اپنے گھر لے آئےاور گود میں دوبچے ایک بیٹی اورچھوٹا بیٹاڈال کرکہا کہ بس تم اب ان کی ماں ہو. میں نے اب اور کوئی شادی نہیں کرنی. یہ گھر اور ان کا انتظام بھی تمہارے حوالے. اس کے بعدپھپھو اماں نے ان دونوں بچوں کو ماں بن کر پالا تو ان کی اکلوتی بیٹی نے بڑی بہن بن کر دونوں کو گود میں کھلایا. پھپھو اماں نے گھر کا تمام انتظام وانصرام بحسن وخوبی سنبھال لیا. اور ڈیڈی بےفکری سے اپنے دوستوں کے ساتھ کلب، سیر تفریح لکھنے پڑھنے میں مصروف ہو گئے. ڈیڈی شام کو آتے ہی پھپھو اماں کے مصلے پر دن بھر کی کمائی کا ایک حصہ رکھ دیتے.
میں نے اپنے بچپن کے صرف چند سال ہی انہیں چاق و چوبند دیکھا. حالانکہ اس وقت بھی ان کی عمر زیادہ تھی. کھانا بنانا، مٹی کی بڑی بڑی ہانڈیاں لیپ کر رکھنا. کپڑے دھو کر انہیں ہاتھ سے ایسے استری کرنا کہ جیسے استری شدہ ہوں. سویاں بنانا، نشاستہ نکالنا، دال بھگو کر مختلف دالوں سے وڑیاں بنانا، سبزیاں سکھانے کے لئے ان کے ہار بنا کر سکھانا، طرح طرح کے اچار مربے بنانا اورفارغ ہوتیں توکارگاہ لے کر ناڑے بنانے لگتیں.مجھے ان کا کارگاہ اور انکی تیزی سے چلتی انگلیوں کا تماشا دیکھنا بہت پسند تھا. لحاف صحن میں بچھا کر ڈورے ڈالتیں تو انگلیوں پر انگشتانے پہن لیتی. کہ انگلیاں زخمی نہ ہوں. ہمہ وقت کام میں جتی رہتیں. فارغ ہو کر مصلے پر بیٹھ جاتیں. بہت سے دانوں کی تسبیح پر تیزی سے دانے گراتی جاتیں. دعا مانگنے یا فاتحہ دلوانے بیٹھتیں تو اتنی لمبی دعائیں اور لوگوں کو یاد کرتیں. کہ سب تنگ آجاتے. روزانہ ہرمل جلا کر نظر اتارتیں نظر اتارنے کے بےشمار طریقے آتے تھے انہیں. بھائی اور بھتیجے کی تو دیوانی تھیں. چوری کا تہوار آتا تو الماری سے سیندور نکال کر پیستیں. اور سیندور کو پیالی میں جمع کر لیتیں. پھر اپنے بالوں کی مینڈھیاں بنا کر مانگ میں بہت سارا سیندور بھر لیتیں کہ بھائ کی درازی عمر کے لئے منت مان رکھی تھی. حکمت بھی جانتی تھیں. طرح طرح کے دیسی نسخے ازبرتھے. چاخسو ،چیڑ اورمختلف نسخے اکثر بناتیں. رات سوتے ہوے کالا رومال سا جس کو سربنڑا . کہتے کس کر سر پر باندھ کر سوتیں
پھر یوں ہوا کہ ہماری نانی جان بھی جوانی میں دو بیٹیاں چھوڑ کر اللہ کو پیاری ہوگئیں تو ہماری امی تو سوتیلی ماں اور باپ کے پاس رہ گئیں. جب کہ ہماری خالہ جس کو ہم سب آنٹی کہتے. وہ بھی ڈیڈی کے پاس آگئیں. ڈیڈی سب کے باپ تھے اور پھپھو اماں سب کی ماں.
محبت کرنے والی، خدمت گزار
پھپھو اماں کی شخصیت میں متضادرنگ تھے. زمانے کے حوادث نے طبیعت میں سختی بھردی تھی. کبھی شبنم تو کبھی شعلہ. طبیعت اورمزاج کے خلاف بات ہوتی تو روٹھ کر کھانا پینا چھوڑ دیتیں. دراصل ان کی اکلوتی بیٹی کا نکاح دوسرے بھائی کے بیٹے سے بچپن میں کر دیا گیا تھا. جب وہ بڑا ہوا تو اپنی مرضی سے شادی کرلی. اور ان کی بیٹی جس کو ہم سب بجو کہتے. ان کو بھی خلع دینے میں لیت و لعل سے کام لیتے رہے. یہاں تک کہ جب عمر ڈھل گئ تو طلاق دی. تب بجو نے فیصلہ سنا دیا کہ بس وہ شادی نہیں کریں گی. ان کی شادی کی عمر نکل گئ. ماں روتی دھوتی رہ گئ. ایک منظر آج بھی مجھے یاد ہے کہ بجو نے جہیز کا بکس کھلوا کر اپنے سارے کپڑے دیدی (ڈیڈی کی اکلوتی لاڈلی بیٹی )اورآنٹی میں بانٹ دیے. ماں روتی رہ گئی.زندگی کے ان تمام چرکوں نے کسی حد تک مزاج میں تلخی بھر دی مگر یہ تلخی صرف انکے ناپسندیدہ لوگوں کے لئے مخصوص تھی. اپنے قریبی لوگوں کے لئے ریشم کی طرح نرم و ملائم، ایثار و قربانی کا مجسمہ، ہر وقت لبوں پر دعائیںاس زمانے میں خواتین کا خریداری کے لیے باہر جانے کا کوئی تصور نہیں تھا. نہ ہی رواج کابلی کوچی عورتیں سر پر کپڑوں کے گھٹڑ لئے گھر گھر جا کر کپڑے بیچتیں. حسب معمول ایک کوچی عورت بڑا سا گھیر دار فراک پہنے ہوے کپڑے بیچنے آئی. کپڑوں کی قیمت پوچھ کر پھپھو اماں نے کپڑے مہنگے بیچنے پر برابھلا کہا. کچھ دیر بعد کوچی عورت نے فریاد کی. کہ طبیعت ٹھیک نہیں. اب پھپھو اماں فورا”گھی کا گھڑا بن گئیں. لیٹو تمہاری ناف گری ہوی ہے. پھر تیل منگا کر اس کی ناف اٹھائ. مالش کی. مالش کر کے ناشتہ کروایا. جاتے ہوے کوچی عورت شکرگزار اوردعائیں دیتی گئ. تو بس ایسے ہی متضاد رنگ تھے ان کی شخصیت میں.
ہم شفیق الرحمان کو پڑھتے ہوے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے تو ناراض ہو جاتیں کہ میرے اوپر ہنس رہی ہو.

تردید کرنے پر بھی غصہ کم نہ ہوتا. اے کڑی تا کابل نے بادشاہ نے رومال نال نک بھی نئ پوجنی مطلب یہ لڑکی تو کابل کے بادشاہ کے رومال سے ناک بھی نہیں صاف کرتی. رات کو قہوہ بنادیتی آنکھ میں دوائی ڈال دیتی تو فورا “کہہ اٹھتیں. اے تا کابل نی شہزادی اے. پنج سیر سونا پاویں اور اس طرح کی دعائیں دیتی رہتیں.
انہوں نے صادق علی کو بھی ماں بن کر پالا. یہ ایک الگ کہانی پے.
صادق علی :ڈیڈی لوگ ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے. کہ گجرات کے قریب گاڑی رکی. تو ایک چھوٹا سا بچہ اندر آیا چمٹا ہاتھ میں لئے جگنی گاتا ہوا. انہیں یہ بچہ بہت اچھا لگا پوچھنے پر رونے لگا کہ باپ نہیں پے. سوتیلی ماں ہے. وغیرہ وغیرہ. ڈیڈی نے کہا ہمارے ساتھ چلو گے اس نے خوشی سے حامی بھر لی اور ان کے ساتھ کوہاٹ آگیا. اب اس کی پرورش کی زمہ داری بھی پھپھو اماں نے بخوشی اٹھا لی. اسے نہلاتیں تو رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتا. اس زمانے میں کابل سے پاوندے آیا کرتے. ان کابلی لوگوں کو دیکھ کر خوف سے چیخنا چلانا شروع کر دیتا. اور کہیں چھپنے کی کوشش کرتا. غرض اس کو پالنے میں کافی کشٹ اٹھانا پڑا پھپھو اماں کو.
یہ بھی گھر میں ایسے بڑا ہوا جیسے گھر کا فرد ہوصادق علی جس کو چھوٹے بڑے سب صادق کہہ کر پکارتے ۔گھر کا ایسا فرد بن گئے ۔کہ کسی کو یاد بھی نہ رہا کہ کبھی اس کو لے کر آئے تھے ۔سب مامووں کے ساتھ سکول جانے لگے ۔پشتو ہندکو روانی سے بولتے ۔نماز کی پابندی کے علاوہ حافظ ہمایوں کے پاس 10 سیارے حفظ کیے اور اکثر دہراتے رہتے ۔بڑے ہوے تو ڈیڈی کے دست راست بن گئے ۔گھر کے تمام کاج
مطب میں تمام کاموں میں معاونت، جگنو کو سکول لانا ۔لے جانا ۔بریک میں اس کے لئے لنچ لے کر جانا ۔میرے لئے ایوب صابر مرحوم کی میونسپل لائبریری سے کتابیں لے کر آنا ۔خالاؤں کے تمام چھوٹے بڑے کام کرنا یہ سب صادقو کی ذمہ داری تھی ۔جووہ ہنستے مسکراتے خوش دلی سے سر انجام دیتا ۔اب میں سوچتی ہوں ۔تو حیرت ہوتی ہے کہ گھر میں کتنی جوان لڑکیاں تھیں ۔بجو تو خیر بڑی تھیں ۔آنٹی بہت خوبصورت تھیں ۔تو دیدی کا حسن قیامت خیز!
سکول میں جب ڈرامہ ہوتا ۔انہیں ملکہ یاشہزادی کا کردار دیا جاتا ۔تواتنی حسین وجمیل خواتین کو سگی بہنوں سے بھی بڑھ کر عزت دی ۔مجھے اورجگنو کو اپنے بچوں کی طرح پیار کیا ۔
بس ایک خرابی جس سے ڈیڈی نالاں تھے ۔وہ فلمیں دیکھنے کا بے تحاشا شوق تھا ۔پیسے کی تو کمی نہ تھی ۔رات 9 سے 12کا آخری شو لگا کرتا تھا ۔صادقو باہر سے تالا لگا کر آخری شو کے لیے نکل جاتا ۔اور چپکے سے آکر سو جاتا ۔صبح اٹھ کر مطب جاتا تو آس پاس کے دکاندار رات کی فلم کے بارے میں پوچھتے ۔بس پھر تو ڈائیلاگ ایکٹنگ کے ساتھ سناتا ۔لوگ داد دیتے تو بآواز بلند گانے گا کر سناتا ۔ایسے میں ڈیڈی اکثر سر پر پہنچ جاتے ۔اور پھر خوب ڈانٹ ڈپٹ ہوتی کہ یہ کیا مراثیوں کی طرح گانے گاتا رہتا ہے ۔مراثی ہو کیا؟ اتنی ڈانٹ سن کر بھی وہ بد مزہ نہ ہوتا اور نہ ہی اپنے شوق چھوڑتا ۔فلموں اور صبیحہ خانم کاتو دیوانہ تھا ۔اور بس اسی بات پر ڈیڈی سے ڈانٹ کھاتا. مگر زرا بدمزہ نہ ہوتا .چکنا گھڑا بنا ہوا کسی بات کااثر لئے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا. پھر ایسے میں ڈیڈی کے اکلوتے لاڈلے بیٹے کو انگلیڈ جانے کی دھن سمائی. بہت ردوکد کے بعد آخر ڈیڈی کو بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے. اور وہ لندن سدھارے. اور ڈیڈی کتنا عرصہ سوگوار اور غمگین رہے. پھر جگنو ان کی زندگی میں آیا تو جیسے جینے کا سہارا مل گیا. انہوں نے اپنی بھانجی یعنی میری امی سے اسے مانگ لیا. اور تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والے لاڈلے بیٹے کو ماموں کی فرمائش پر ان کے حوالے کردیا. اب ڈیڈی کے دو ہی کام تھے.جگنو اس کے لاڈ اورطویل طویل خط لکھنے
اس کڑے وقت میں صادقو نے سگے بیٹے سے بڑھ کر خدمت کی. تین خالاؤں کے رشتے ڈیڈی نے بہت پہلے اپنے بھتیجوں سے طے کر رکھے تھے. جو بوجوہ ٹوٹ گئے. اب انہوں نے صادقو کو ساتھ ملانے کی کوشش کی. کہ بیٹا تو اب آنے کا نہیں. بڈھا کب تک جئے گا. ہم ان لڑکیوں سے نکاح کرلیں گے. گھر پیسہ سب آپس میں بانٹ لیں گے. تم ہماراساتھ دو. یہ سن کر صادقو نے انہیں خوب کھری کھری سنائیں اور برابھلا کہا. پھر چار پانچ سال تک گھر بار ہر چیز کا ایسا خیال رکھا. کہ سگا بیٹا بھی ایسا نہ رکھ سکے .تاوقتیکہ انکل لوٹ آے. پھر بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنے کی آرزو لئے ابدی دنیا کی طرف کوچ کر گئے. گھر کا سارانظام بکھر کر رہ گیا. انکل اور صادقو کی طبیعت اور مزاج میں فرق تھا. کھٹ پٹ رہنے لگی ایک آدھ سال ایسے ہی مگزر گیا. ایک دن میں سکول سے واپس آئی تو پتہ چلا کہ صادقو ناراض ہو کر چلا گیا. وہ اکثر لاہور چلا جاتا. کئی دفعہ ناراض ہو کر بھی گیا تو پھر آجاتا. مگر اس دفعہ وہ خط چھوڑ گیا تھا کہ بس اب نہیں آونگا. لیکن ہم سب کو یقین تھا کہ وہ لوٹ آئے گا ۔اس بھری دنیا میں اس کا ہمارے سوا اور کون تھا بھلا ۔مگر قدرت کے کھیل اور رنگ نرالے !
ہر عید پر صادقو لاہور جاتا ۔کئ دفعہ اس نے اپنے بھائیوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر نہ ملے اوراس دفعہ وہ اپنے گاوں گیا ڈھونڈتے ڈھانڈتے پھوپھی کے گھر جا پہنچا ۔جو اسے اپنے ساتھ لے کر لاہور آئی کہ سارے گھر والے لاہور شفٹ ہوگئے تھے ۔سب نے اسے پہچان لیا کہ اس کی اور شوکت علی کی شکل بہت ملتی ہے ۔جی ہاں گانے والا شوکت علی جو اس وقت مقبول ہو رہا تھا ۔وہ صادقو کا سگا بھائی نکلا ۔آگے کی کہانی لمبی اور درد ناک ہے ۔یہاں کی زندگی اور وہاں کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔عقیدے کافرق الگ تھا ۔چھوٹی موٹی نوکری کرلی ۔شادی ہوگئی ۔بچے ہوگئے ۔پھپھو اماں بجو اس سے یاد کر کے روتی رہتیں ۔ایک دفعہ کوہاٹ میں کسی کی شادی میں شوکت علی آیا اور بطور خاص پھپھو اماں اورسب سے ملنے ہمارے گھر آیا ۔اس کو پھپھو اماں کے پاس لے کرگئے تو پھپھو اماں اس کو دیکھتے ہی برس پڑیں ۔چلو جاو تم ہمیں کیا اماں کہہ رہے ہو ۔جسے بیٹا بن کر پالا ۔وہ بے وفا نکلا ۔پھپھو اماں کو منع کرتے رہ گئے مگر انہوں نے خوب دل کی بھڑاس نکالی ۔انکل نے شوکت علی سے معذرت کی کہ پھپھو اماں کی باتوں پرخفا نہ ہوں ۔
ابھی دو تین ماہ ہوے کہ صادقو بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گیا ۔آخری عمر میں یادداشت نے کام چھوڑ دیا تھا ۔مگر اس کی بہو کے بقول ہم سب کے نام لیتا تھا ۔سال دوسال بعد کوہاٹ کا چکر لگاتا اور ایک ایک سے مل کر زار و قطار روتا کہ کاش میں اپنوں کو نہ ڈھونڈتا ۔میرے اصل اپنے توآپ لوگ تھے جہاں میں پلا بڑھا ۔آنکھوں میں آنسو وں کی نمی لیے ہمیشہ یہ شعر پڑھتاا
وہی تھی زندگی جو تیری محفل میں گزار آے
یہی ہے موت جو تجھ سے بچھڑ کر ہم نے دیکھی ہے
رہے نام اللہ کا













