پاکستان میں ایک بار پھر ’کنگز پارٹی‘ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ نو مئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)سے نکلنے والے رہنماؤں کی تعداد کو اب بعض ٹی وی چینلز پر باقاعدہ اسکور بورڈ کی صورت میں دکھایا جا رہا ہے جس میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد سابق رہنما جہانگیر ترین سب سے پہلے متحرک ہوئے اور اب حال ہی میں پی ٹی آئی چھوڑنے والے بعض رہنماؤں نے فواد چوہدری کی قیادت میں اپنی سابق جماعت سے علیحدہ ہونے والوں سے رابطے شروع کردیے ہیں۔
بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے 2013 اور 2018 کے انتخابات سے قبل اور بعد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑنے والے لیڈر اور الیکٹیبلز کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کو بھی پس پردہ قوتوں کی کرشمہ سازی قرار دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی ماضی میں اس تاثر کو مسترد کر تی تھی لیکن موجودہ حالات میں اپنی جماعت چھوڑنے والوں کے کسی’کنگ پارٹی‘ میں جمع ہونے کی بات اب عمران خان بھی کررہے ہیں اور ایک حالیہ بیان میں انہوں نے اس کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
تاہم پاکستان کی سیاست میں قومی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں انتخابی اثر و رسوخ رکھنے والے سیاست دانوں کا کسی سیاسی پلیٹ فورم پر جمع ہونے کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔
وہ بھی مئی کا مہینہ تھا
اتفاق یہ ہے کہ 21 سال قبل مئی کا مہینہ تھا جب پاکستان میں ایک نئی ’کنگز پارٹی‘ کے میدان میں اترنے کی خبر گرم تھی۔ پنجاب کے اس وقت کے سیکریٹری داخلہ اعجاز شاہ اور آئی جی آصف حیات گورنر پنجاب خالد مقبول صدیقی کے طیارے پر پنجاب کے بیس اضلاع کا طوفانی دورہ کرکے مقامی انتظامیہ کو بتا رہے تھے کہ کون سی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی ‘چنیدہ’ اور ‘پسندیدہ’ ہے۔
سال 2002 میں منظم ہونے والی یہ سیاسی قوت پاکستان مسلم لیگ (ق) تھی جسے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قبضے کے بعد اپنی حکومت کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے لیے منظم کررہے تھے۔
جنرل پرویز مشرف نے 2006 میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت ’ان دی لائن آف فائر‘ میں لکھا تھا:”مجھے اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل کے لیے ایک سیاسی جماعت کی ضرورت تھی۔ میرے پاس ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا آپشن بھی تھا لیکن میں نے ہمارے ملک کو آزادی دینے والے قائدِ اعظم کی جماعت مسلم لیگ کے احیا کا فیصلہ کیا اور بطور فوجی اس میں میرے جذبات کا بھی عمل دخل تھا۔”
پرویز مشرف لکھتے ہیں کہ ان کے پرنسپل سیکریٹری اور قابلِ اعتماد دوست طارق عزیز نے 2002 کے عام انتخابات سےپہلے پاکستان مسلم لیگ( ن )کو پاکستان مسلم لیگ( ق )میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ طارق عزیز نےہی بعدمیں چوہدری شجاعت اور ان کے چچازاد بھائی چوہدری پرویز الہی کو جنرل مشرف سے ملوایا۔
مسلم لیگ (ق) دراصل مسلم لیگ (نواز) کے ان رہنماؤں پر مشتمل تھی جنھوں نے 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد جلاوطنی اختیار کرنے والے اپنے قائد نواز شریف سے راہیں جدا کرلی تھیں۔
اگرچہ مسلم لیگ( ق) کو باقاعدہ طور پر 20 اگست 2002 کو لانچ کیا گیا لیکن نون لیگ سے علیحدہ ہونے والے رہنما پہلے ہی ایک گروپ کی صورت میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔
سال 2002 میں پاکستانی جریدے ’نیوز لائن‘ میں شائع ہونے والی صحافی حسن اکبر کی رپورٹ کے مطابق ان رہنماؤں میں پنچاب کے سابق گورنر میاں اظہر، خورشید قصوری، عابدہ حسین اور فخر امام سمیت دیگر رہنما شامل تھے اور اس چھوٹے سے گروپ کو 2002 کے عام انتخابات سے قبل 2001 میں مشرف حکومت کے تحت ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی مشینری کے تحت مدد بھی فراہم کی گئی تھی۔
حسن اکبر کے مطابق انتظامیہ ہاتھ میں نیب کی چھڑی پکڑےمسلم لیگ( ن) کے لیڈرز اور سابق ارکان اسمبلی پر مسلم لیگ ق میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔
ان کے مطابق پرویزمشرف کے پرنسپل سیکریٹری نے خاص طور پر پنجاب کے دیہی حلقوں میں مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو ق لیگ میں شامل کرنے کے آپریشن کی نگرانی کی کیوں کہ یہی وہ علاقے تھے جہاں سے صوبے کے نوے فی صد نمائندے منتخب ہوکر آتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی تاریخ پر مرتب کی گئی کتاب ’پاکستان پولیٹیکل پارٹیز سروائیونگ بٹوین ڈکٹیٹرشپ اینڈ ڈیموکریسی‘ میں شامل اپنے مضمون میں ڈاکٹر ثمین اے محسن علی نے لکھا کہ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ کی بنائی گئی پارٹی میں سیاسی اشرافیہ نے دل چسپی ظاہر نہیں کی تھی کیوں کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ یہ جماعت اپنے بل بوتے پر الیکشن میں کامیاب ہوسکے گی۔
ان کے مطابق یہی وجہ تھی چوہدری برادران نے جنرل مشرف کی ’کنگز پارٹی‘ بننا قبول کیا اور پھر مشرف کی پولیٹیکل انجینئرنگ کی وجہ سے اس نے انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے مرکز ، پنجاب اور سندھ میں حکومت بنائی













