اسلام آباد میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیر کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ‘ایف سی آر ایک کالا قانون ہے اور اس سے ہمیں اپنی چھڑانا ضروری ہے’۔

عبدالقادر بلوچ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخواہ جلد صدر مملکت کو ایف سی آر قوانین کے خاتمے کے لیے سمری بھجوادیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کسی کو بھی ایف سی آر ختم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تاہم اب فاٹا اصلاحات کے لیے سازگار موقع ہے۔

فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا (کے پی) سے ضم کرنے کا عزم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘فاٹا اصلاحات کے 26 پہلو ہیں اس لیے اس معاملے پر جلدی نہیں کی جاسکتی اور کے پی کے ساتھ انضمام کی حتمی تاریخ بھی نہیں دے سکتا تاہم فاٹا کا انضمام ہوگا ضرور ہوگا’۔

وزیر سیفران نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے لیے ماحول سازگار ہے اگر اب پیچھے ہٹے تو تباہ کن ہوگا اور فاٹا اصلاحات پر رکاوٹ نہیں کوئی آئی تو دور کریں گے اور اتحادیوں کے تحفظات بھی دور کردیں گے۔

انھوں نے کہا کہ فاٹا میں 1440 خالی اسامیوں کو پر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ فاٹا کے انتظام کو تاحال برطانوی راج کی جانب سے 1901 میں بنائے گئے کالے قانون ایف سی آر کے تحت چلایا جارہا ہے جو قبائلی علاقوں کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ایف سی آر قانون کے مطابق فاٹا کے رہائشیوں پر اپیل، وکیل، اور دلیل جیسے بنیادی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے ایف سی آر کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY