کویت تیل کی دولت سے مالا مال ایک چھوٹا سا پر امن ملک ھے کویت میں سب سے پہلے دریافت ھونے والے تیل کے کنواں کا نام برقان تھا
کویت کے پہلے حکمراں شیخ صباح بن جابر الصباح اور موجودہ حکمران شیخ صباح الاحمد جابر الصباح ہیں
کویت کی تاریخ ڈھائی سو سال پرانی ھے کویت ابتدا میں ماھی گیروں کا ایک گاؤں تھا
انکے آباو اجداد وسط عرب اور نجد کے علاقے سے ھجرت کر کے یہاں آئے تھے
کویت کا نام پہلی بار سکندر اعظم کے زمانے میں سنا گیا تھا کویت کی تاریخ سترھویں صدی کے آواخر سے شروع ھوتی ھے
1937 میں تیل کی دریافت نے اس چھوٹے سے جزیرہ نما کو دنیا کے امیر ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔
یہ دنیا کا پانچواں امیر ترین مضبوط ملک ھے زیر زمین تیل کی معدنی دولت سے مالا مال ملک میں
آج بھی قدیم شخصی سماجی روایتیں زندہ ھیں

محل نما مکانات کی کثرت ہےمگر یہ آج بھی پرانے وقتوں کے رھن سہن کے مطابق موسم بہار میں صحرا میں خیمہ لگا کر وھاں قیام کرتے ھیں۔
کویت میں ھر گھر میں ایک خاص جگہ ھوتی ھے جہاں مرد حضرات اپنے مہمانوں کا استقبال و خاطر مدارات کرتے ھیں، اسکو دیوانیہ کہتے ھیں اس میں آرام دہ قالین اور گاو تکیے رکھے ھوتے ھیں خوشبودار
قہوے خوبصورت عربی فنجان میں پیش کیا جاتا ھے
کویتی لباس کو دشداشہ اور سر پر پہنے والے چوڑے رومال کو غترہ کہتے ھیں عورتیں پیرس اور میلان اور ڈزاینر کے لباس پہنتی ھیں مگر ابھی بھی ان کا روایتی برقعہ
جس کو درعا کہتے ھیں وھی استعمال کرتی ھیں

کویت میں رمضان کریم کے مبارک مہینے کے لیے خصوصی اھتمام و تیاری کی جاتی ھے
مچھلی اور جھینگے کویتیوں کی خاص و مرغوب غذا ھے ۔
ابھی چند ماہ پہلے کویت کے ساحلوں پر کثیر تعداد میں مردہ مچھلیاں پائی گیں تھیں ۔
کویت کے سمندر میں بہترین قسم کے جھینگے اور موتی بھی پائےجاتے ھیں
مگر اس واقعے کی فوری تحقیقات شروع ھو چکی ھیں
ویسے تو یہاں ہر سپر مارکیٹ سٹور میں آپ کو دنیا کی ھر نعمت مل جاتی ھے مگر رمضان کی شان اور رونق کا لطف ھی اور ھے
۔تشریبہ ایک خاص قسم کا شوربہ ھوتا ھے
سحور و افطار میں بہت زیادہ اھتمام کیا جاتا ھے
خاندان بھر کو مدعو کیا جاتا ھے
گھر کو فانوس سے سجایا جاتا ھے
حلویات کی مانگ بڑھ جاتی ھے
خشک میوے جات
قسم قسم کی چاکلیٹس
بچوں کے خوش رنگ کپڑے
خصوصی پکوان لقمہ القاری
زلابیا کنافہ یہ سب رمضان کی خاص چیزیں ہیں
رمضان کے آخری عشرے میں لوگ مساجد میں اعتکاف اور قیام الیل کرتے ہیں۔ خصوصی عبادات کا نور ہر سو ہوتا ہے اور
مساجد میں افطاری کا بہترین بندوبست کیا جاتا ھے
مساجد میں قیام اور شبیہ عبادات کی رونق اور شا ن ھی الگ ھے

کویت کی مسجد الکبیر میں اتنے نمازی آتے ھیں کہ تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں رھتی ھے
مکہ و مدینہ کے خطیب و قاری آتے ھیں
بازار تراویح کے بعد تا دیر کھلے رھتے ھیں
رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کی ھر چیز بڑی مقدار میں موجود ھوتی ھے
اوقات عمل میں بھی سہولت دی جاتی ھے
افطاری اور صلاہ تراویح کے بعد
لوگ اپنے اھل و عیال کے ھمراہ گھومنے پھرنے نکل جاتے ھیں
روزہ کھلنے کا اعلان توپ کو داغ کر کیا جاتا ھے
سحری کے لیے بھی ابھی کچھ علاقوں میں ڈھول لیکر جگانے والے آتے ھیں
اور لگتا ھے ھم الف لیلی کے ترقی یافتہ زمانے میں پہنچ گئے ھیں ۔
رمضان دنیا بھر کے سوا بلین مسلمانوں کے لیے رحمت وسعادت
برکت و بخشش رحمت تلاوت اعتکاف قربت الہی طہارت و فضلت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ھے۔
کویت کی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے ملک بھر میں 26 مساجد کو شب کی عبادتوں کے لئے تیار کردیا ہے ۔ کویت ٹائمز کی تفصیلات کے مطابق وزیرمذہبی امور محمد الجبری نے مسجد بلال بن رباح کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت نے مساجد میں عبادت گزاروں کو شب بیداری کی عبادات کے لئے تیار کردیا گیا۔ علاوہ ازیں ان مساجد میں قرآن کی تعلیمات بھی دی جائیں گی ۔

رمضان کریم کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب القدر کی خوشخبری سنائی گئی ھے
جس میں ایک رات کی عبادت کا صلہ و ثواب تراسی سال کی عبادت کا ثواب ہے
۔
یہ اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ بیش قیمت مہینہ ھے جو عاصیوں کے لیے دوزخ سے نجات
کا مہینہ ھے۔
زکوۃ و الفطرت کے ذریعے خاموشی سے محتاج و ضرورت مندوں کی امداد کا مہینہ ھے
اللہ پاک ھم سب کو اس ماہ کی جملہ برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین













