یکم جون کو دنیا کے بیشتر ممالک میں بچوں کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔

0
1432

دنیا بھر کے ممالک اقوام متحدہ کے تجویز کردہ عنوان کی روشنی میں بچوں کا عالمی دن جوش وخروش سے مناتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر چائلڈ لیبر کے بارے میں عنوان دیا گیا ہو تو بچوں سے مشقت لینے پرخبارات،ریڈیو،ٹیلیویژن مباحثوں،مذاکروںاور مختلف پروگراموں کے ذریعے جس کا مقصد بچوں اور بڑوں میں اس بُرائی کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔
ہرسال 20نومبر کوپوری دُنیا میں بچوں کا عالمی دن بڑے جوش وجذبے سے منایا جا تا ہے۔تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے،بچوں کے حوالے سے ان کی بہتری کے لئے غوروفکر کیاجاتاہے تقریریں کی جاتی ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاںصرف تقریریں کی جاتی ہیں عملی سطح پر کوئی کام نہیں کیا جاتا۔
٭بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
٭ بچے پھول ہیں بچوں سے محبت سے پیش آنا چاہئے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ہم اور آپ بچوں کے حقوق کی طرف توجہ دے رہے ہیں؟
٭کیا دیہات اور شہر کے سکولوں میں بچوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں؟
٭کیاگھروں،ہوٹلوں اوردیگرکاروباری مراکز میں مالکان کام کرنے والے بچوں سے اپنے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں؟
٭دیہی علاقوں میں بچوں کے لئے صحت کے مراکزقائم کئے گئے ہیںکیاان پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟
٭سڑکوں پر گاڑی صاف کرنے کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی پڑھائی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
٭بچوں کی فلاح و بہبود کےلئے کس حد تک کام ہو رہا ہے؟
٭کیابچوں کے امورکے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر علیحدہ وزارت یا ڈویژن نہیں بنانی چاہئے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب شاید کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ان پر عملی سطح پر کام کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ان قوموں نے ترقی کی جن قوموں نے بچوں کے حقوق کے لئے کوششیں جاری رکھیں اور ان پرعملی سطح پر کام کر کے دکھایا،بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہم 20 نومبر کو بچوں کا دن منا تو لیتے ہیں لیکن اس پرعمل نہیں کرتے۔پاکستان میں اس وقت ہوٹلوں،بڑی دکانوں اور دوسرے کاروباری مراکز میں بچوں سے مشقت لی جاتی ہے جوکہ غیر انسانی سلوک ہے۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق 60 فیصد بچے اس لئے تعلیم حاصل کرناچھوڑدیتے ہیںکہ سکول میں مار پیٹ اورڈانٹ ڈپٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ بچے پھول کی مانند ہوتے ہیں انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہیں پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے آپ کی پیاربھری توجہ ان کی زندگی بدل سکتی ہے اورعدم توجہ بچے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
اساتذہ بچے کو نہ پڑھنے پر سزا دیتے ہیں۔اس سزا کا یہ مطلب ہے کہ اساتذہ کرام بچے کو پڑھانے میں ناکام ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں میں ایسا شعور اُجاگر کیا جائے جس سے بچے میں خود بخودتعلیم حاصل کرنے کاشوق پیداہوایسے سکول جہاں بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے وہاں وہ بڑے شوق سے پڑھنے جاتے ہیں۔سزا بچوں میں اصلاح پیدا نہیں کرتی بلکہ بچوں کو پڑھائی سے بیزار اورخود سر بنادیتی ہے۔بچپن سے ہی اگر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو یقیناً ان کا مستقبل بھی روشن ہوگااوراگر بچپن سے ہی مار پیٹ ڈانٹ ڈپٹ کی جائے تو بچوں میں خود اعتمادی نہیں رہے گی بلکہ ان کی جسمانی اورذہنی نشوونمامیں بھی رکاوٹ پیداہوگی۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر بچے مار کی وجہ سے نہیں پڑھنے جاتے۔
40 فیصد بچے ایسے ہیں کہ جن کے گھریلو حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ پڑھ لکھ سکیں حالانکہ ان میں ایسے بچے بھی موجود ہیں جو بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں اگرہر امیر آدمی صرف ایک بچے کوپڑھانے کی ذمہ داری اٹھا لے تو بڑی حد تک چائلڈ لیبرپرقابو پایا جا سکتا ہے۔بڑوں کی طرح بچوں کے بھی مسائل ہوتے ہیں۔اگران کے مسائل کا حل ڈھونڈ لیاجائے توہمارا پیاراوطن پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوسکتا ہے۔
ہر بچہ قدرتی طور پر کسی نہ کسی معاملے میں ضدی ہوتا ہے لیکن اگر بچے کو پیار اور محبت سے سمجھایاجائے تو کافی حد تک اس کی ضد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچے میں اتنا شعور پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آپ کے اشارے کوسمجھنے لگتا ہے۔سندھی،بلوچی،پنجابی اور پٹھان ہم سب کی پہچان پاکستان ہے جب ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو بچوں کو مساوی حقوق کیوں نہیں دیتے؟ہرسکول میں ایک نصاب کیوں نہیں؟بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔اس سرمائے کا ہم خاص خیال رکھتے ہیں؟نہیں ہرگزنہیںورکشاپوں میں ہم اس سرمائے سے محنت مزدوری کرواتے ہیںاور ایسے کئی ادارے ہیں جو بچوںکی طاقت سے کئی گنا زیادہ محنت مشقت کرواتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے بڑوں سے اثر لیتے ہیں ۔حال ہی میں سندھ اسمبلی میں جو ہنگامہ برپا ہواوہ کسی سے ڈھکا چھپانہیں،ہمارے حکمران اور سیاستدان شاید یہ بات بھول چکے ہیں کہ آج کے بچے جنہیں ہم بچہ سمجھتے ہیں بڑی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور بعض اوقات تو بڑے بھی انکی عقلمندانہ سوچ پرحیران رہ جاتے ہیں۔بڑوں کو چاہئے کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے بچوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY