وہ تھا قطرہ قطرہ اتر چکا وجود کے رگ و جان میں، اب وہ بس منتظر تھا کہ نتیجہ امتحان کیا ہو گا، کونسی زمین پر کس کا آسمان کیا ہو گا، مگر وقت بہت کم تھا جیسے مٹھی سےسرکتی آخری آخری بوندیں پانی کی ایسے ہی کچھ پل تھے جو اپنی مکمل کہانی تحریر کرچکےتھے
اور اس کو کہنے سے بہت پہلے ہی کہیں ڈوب کر مر چکےتھے اب وہ الگ راہ کا مسافر تھا جہاں صرف وہ… اور صرف وہ ہی تھا اور اس دو وہ کے بیچ میں بھی بس وہ، ہی بچتا تھا، اور خود وہاپنے ہر خوف سے ابھر چکا تھا نہ تھا ڈر نہ دیوانگی بس سکون کی تحریر تھی جو مسلسل مسکرا رہی تھی۔ ۔ ۔
اور خون ہوتے جزبوں کے گیت لکھ کر سنا رہی تھی یہ وقت زندگی کا تھا کہ جو وقت خواب کے محل میں بیت گیا تھا، اور وہ وقت تحلیل ہو چکا تھا کہ جس میں حقیقت کے طمانچوں نے اس گہرے حسین خواب سے ہوش کے میدان میں لا کھڑا کیا، جہاں صرف جرات اظہار تھی، اصول تھے، افکار تھے جہاں زندگی اپنے جزبوں سے ابھر کر جی جاتی تھی اور موت ہر لمحہ جی جاتی تھی اور زندگی ہر لمحہ سینچی جاتی تھی، درحقیقت زندگی کے آغاز ہی سے موت کا سفر شروع ہوتا ہے ایک زندگی میں داخل ہونے کی واسطے دوسری زندگی کی موت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
جب نومولود رحم مادر میں ہوتا ہے وہ بھی ایک زندگی یے اور ولادت کے وقت اس رحم مادر سے رخصتی اس کاینات کی موت ہوتی ہے اور ماں کی آغوش میں زندگی ایک زندگی، پھر بچپن کی موت پر نوجوانی اور جوانی کی موت پر بزرگی اپنی اپنی زندگی کے رنگ سجاتے چلے جاتے ہیں، بہت سے لوگ بچپنےسے بزرگی تک اپنی فکر کے اعتبار سے بچپنے ہی میں جیتے ہیں، بے فکر، لا پرواہ، انجان اور نا سمجھ البتہ اٹھنے بیٹھنے کہنے کرنے کے کچھ آداب و اطوار بدل جاتے ہیں اور بہت سے لوگ ہر حصے سے ایک خاص توفیق کسب کرتے ہیں، اس کے اہل بنتے ہیں ۔ ۔ ۔
، وہ زندگی اور موت کے اس مسلسل سفر کی اہمیت سے واقف بیدار اور با ھدف لوگ ہوتے ہیں اور کچھ حیوانیت اور خواہشات پرستی کے جھولے میں جھولتے رہتے ہیں کیونکہ وہ لزتوں کے شیدائی ہیں۔ ۔ ۔اور کچھ درد سے لزت کشید کرتے ہیں حتی وہ درد سے ہمیشگی کا ناطہ جوڑ لیتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے۔ ۔ ۔
جب آنسو خاموش اور لفظ چپ کر جاتے ہیں اور یہ خاموشی کا سفر انکی بلندی کا سفر ہوتا ہے جہاں بس خاموشی ہوتی ہے نہ غم نہ خوشی نہ رنج نہ سرور بس سکوت ہوتا ہے، اتنا سکوت کہ معمولی سی سوئ بھی گر جائے تو ارتعاش پیدا کر دے کبھی وقت کے دامن میں موجود لمحے بہت کم ہوتے ہیں اتنے کم کے سنائی دینے والوں کو سنائ نہیں دیتے اور دکھائی دینے والوں کی بصیرت درک نہیں کر پاتی۔ ۔ ۔
کچھ درد ھڈیوں کی طرح روح حیات کے حلق میں جا پھنستے ہیں ک نہ نکل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں بس اس کشمکش میں بکھری کچھ مسکراہٹیں اپنی آغوش میں تھام کر زندگی کو سیدھے سیدھے چلاتی رہتی ہیں اور ان سے بکھرتے نغمے ماحول کو پرسوز اور پرسکون اور شاداب رکھتے ہیں اکثر زندگی جھیلنے والے بڑا ظرف بڑا مون رکھتے ہیں اور ہنستے مسکراتے سب سجا دیتے ہیں پھولوں کی طرح مہکتے شبنم کی طرح روتے اور بہاروں کی طرح دعا دیتے ہیں انسان بھی جب محبتوں کو سزا دیتے ہیں تو سب کچھ ہی جلا دیتے ہیں اور ہر منظر کو سجا دیتے ہیں اور سجے ہوئے پل زندگی کو جگا کر ان سے داد لیتے ہیں زندگی بس ایک مسکراہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں جہاں سکون کے دیے ہمایک ہی پل میں جلا دیتے ہیں کچھ اسطرح ہم روتے لمحوں کو جینے کی سزا دیتے ہیں جیسے خزاں کے موسم کو پھول اپنی جرات سے جگا دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













