پاکستان اور بھارت کے وفد نے عالمی عدالت انصاف کے سربراہ رونی اَبراہم سے ملاقات کی جس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی ٹائم لائن پر بات چیت کی گئی۔

اٹارنی جنرل کے آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں عالمی عدالت کے رجسٹرار اور دیگر عدالتی حکام بھی موجود تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ کوئی کیس کی سماعت نہیں تھی اس لیے ملاقات میں کیس کے مواد ور میرٹ پر کوئی بات نہیں کی گئی، جبکہ ملاقات کا واحد مقصد تحریری جواب جمع کروانے اور دلائل دینے کے لیے ٹائم لائن طے کرنا تھا۔

ملاقات میں پاکستانی وفد کی قیادت اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے کی جبکہ دیگر اراکین میں وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیا کے دائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل، اٹارنی جنرل آفس کے بین الاقوامی تنازعات یونٹ کے سربراہ احمد عرفان اسلم اور کیس میں پاکستان کے وکیل خاور قریشی شامل تھے۔

عالمی عدالت کے صدر نے پاکستانی وفد کو کیس کی سماعت جلد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اٹارنی جنرل نے عالمی عدالت انصاف کے سربراہ کو پاکستان کے ایڈہاک جج کی تعیناتی کے ارادے سے آگاہ کیا، ایڈہاک جج کیس کی سماعتوں میں بینچ کا حصہ ہوگا۔

بھارت نے عالمی عدالت سے کلبھوشن یادیو کی بریت یا رہائی کی درخواست کی تھی، تاہم پاکستانی وکیل خاور قریشی 15 مئی 2017 کو یہ واضح کرچکے ہیں کہ بھارت عالمی عدالت سے کلبھوشن کی رہائی حاصل نہیں کرسکتا۔

بیان کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے ابھی صرف کیس کے طریقہ کار سے متعلق فیصلہ دیا ہے۔

حکومت پاکستان پہلے بھی واضح کرچکی ہے عالمی عدالت کو اختیار سماعت حاصل ہے نہ ہی وہ کلبھوشن کی رہائی کا فیصلہ کرسکتی ہے، پاکستان مقدمے کی سماعت کے دوران انہی نکات پر دلائل دے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY