پاکستان کےتین شہریوں کے 96بچے ہیں

0
817

پاکستان میں شرح پیدائش میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، حالیہ مردم شماری کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں تین شخص ایسے بھی ہیں جن کے مجموعی طور پر چھیانوے بچے ہیں اور وہ مزید بچوں کے خواہشمند بھی ہیں۔

ان میں سے دو افراد کاتعلق بنوں سے ہے جو کہ دونوں بھائی بھی ہیں اور ایک شخص کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔
36بچوں کےباپ اور 3بیویوں کے شوہر57سالہ گلزار خان کا کہنا ہے کہ اللہ نےتمام انسانوں اور پوری کائنا ت کو تخلیق کیا ہے تو میں کیوں بچے کی پیدائش کے قدرتی طریقے میں خلل ڈالوں۔

اس وقت گلزار خان کی تیسری بیوی حاملہ ہیں، ان کا مزید کہنا ہےکہ ہم مضبوط ہونا چاہتے ہیں، ہمیں کرکٹ میچ کھیلنے کےلئے دوستوں کی ضرورت نہیں۔

گلزار خان کے بھائی 70سالہ مستان خان وزیر کے 22 بچے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کے بچے بہت زیادہ ہیں۔ان کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی تعداد بھی یتنی زیادہ ہے کہ انہیں گننا مشکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر پیدا پونے والے کو رزق عطا کرے گا لیکن اللہ ہر لوگوں کا ایمان کمزور ہو گیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے جان محمد ہیں جو 38 بچوں کے والد ہیں، 2016 میں انہوں نے چوتھی بیوی کی خواہش کی تھی تاکہ وہ اپنے 100بچے پیدا کرنے کے مشن کو پورا کرسکیں تاہم اب تک کسی خاتون نے ان سے شادی کی رضا مندی ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے بھی اپنی خواہش کو نہیں چھوڑا، ان کا کہنا تھا کہ جتنے مسلمان پیدا ہوں گے اتنے ہی دشمن خوفزدہ ہوں گے، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے چاہئیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کے لئے وسائل فراہم کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی غیر مسلم اتنے ہی خوفزدہ ہوں گے۔

حکومت پاکستان ایک طرف تو بچوں کی پیدائش میں وقفے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میںلگی ہے تو دوسری جانب کچھ پاکستانی شہری زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے نئے ریکارڈ بنانے میں جتے ہوئے ہیں۔
یو این پاپولیشن کونسل کی کنٹری ڈائریکٹرزیبا اے ستار کا کہنا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے صحت پر اثرات اچھے نہیں ہوتے، پاکستان کو شرح پیدائش کی بڑھتی رفتارروکنا چاہیے جو معاشی مفادات کے حصول کےلئےاچھی نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY