ہر سانس میں پھر اک نیا طوفان اُٹھا ہو۔از۔صفدر ھمدانی

0
871

ہر سانس میں پھر اک نیا طوفان اُٹھا ہو

ہمراز اگر میری کبھی بادِ صبا ہو

پھر تم میرے افکار کو تسلیم کرو گے

سورج جو اگر میری ہتھیلی پہ اُگا ہو

ہونا در حیدری کا بھکاری میرا اعزاز

تم تخت نشیں ہو بھی تو تم کون ہو کیا ہو

دُھل جائے گی تمہارے قلم کی بھی نجاست

تم نے کبھی حسنین کا جو نام لکھا ہو

رُک سکتی نہیں کسی ایسے قلب کی دھڑکن

جس دل پہ اگر نام محمد کا لکا ہو

قائم نہ رہے قلب کی دھڑکن کا تسلسل
من کنتُ کا نغمہ نہ اگر میں نے سُنا ہو

کاسہء سخن خالی ہے یا نفس محمد
کچھ بھیک ذرا لفطوں کی صفدر کو عطا ہو

SHARE

LEAVE A REPLY