نواز شریف پاناما پیپرز کی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو تین گھنٹے تک پیش ہوئے

0
174

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میری حکومت اورسارے خاندان نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے ، انشاء اللہ میں میرا خاندان سرخرو ہوگا،میری پیشکش کو سیاسی تماشوں کی نذر نہ کیاجاتا تو آج تک یہ مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔

پاناما پیپرز کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے تقریباً تین گھنٹے کی پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے موقف پیش کرکے آیا ہوں،میری دستاویزات پہلے ہی متعلقہ اداروں کے پاس ہیں اورپاناما لیکس سامنے آتے ہی سپریم کورٹ کاکمیشن قائم کرنےکااعلان کیاتھا، آج د وبارہ سے دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں، آج کا دن سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاناما پیپرز کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوئے،وزیراعظم نواز بغیر کسی پروٹوکول کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے، وہ جے آئی ٹی کی جانب سے مانگی گئی دستاویزات بھی اپنے ساتھ لائےتھے۔

وزیر اعظم کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز اور حسین نواز بھی تھے تاہم وزیر اعظم تنہا جوڈیشل اکیڈمی میں داخل ہوئے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بھی ان کے ساتھ جانے نہیں دیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعظم نواز شریف پاناما پیپرز کے دعوؤں کے مطابق اپنے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر
بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوگئے۔

وزیراعظم نواز شریف کی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر دفاع اور وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق انہیں ملزم کی حیثیت سے نہیں بلکہ بطور گواہ طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل اکیڈمی میں پیشی سے قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید سمیت دیگر وزراء اور پارٹی رہنماؤں نے وزیراعظم ہاؤس میں نواز شریف سے ملاقات کی۔

یگی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے جوڈیشل اکیڈمی کے باہر وزیراعظم کا استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی جےآئی ٹی کے سامنے پیشی سے قبل وزیراعظم ہاؤس کے سیکورٹی اسٹاف نے عمارت اور انوسٹی گیشن روم کی سیکیورٹی کلیئرنس دی تھی۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا کنٹرول رینجرز نے سنبھالا ہوا ہے، وزیر اعظم کی آمد سے قبل آئی جی اسلام آباد خالد خٹک نے بھی جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کاجائزہ لیا تھا
پیشی کے موقع پر وزیر اعظم کے اسکواڈ کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت تک محدود رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے پرسنل اسٹاف کو بھی انوسٹی گیشن روم تک جانے کی اجازت نہیں ہے اور وہ انوسٹی گیشن روم میں بغیر پروٹوکول کے اکیلے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم جے آئی ٹی میں متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات اپنے ساتھ لے کر آئیں ہیں اور وہ پیشی کے موقع پر مطمئن اور پرسکون نظر آرہےتھے۔

جوڈیشل اکیڈمی آمد سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کے مشیرنے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں جے آئی ٹی میں پیشی سے متعلق مشاورت کی گئی ۔ اس موقع پر وزیرداخلہ نے سیکورٹی انتظامات سے متعلق بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں جے آئی ٹی کے ممکنہ سوالات اور دستیاب دستاویزات ومواد سےمتعلقہ امور پر غور کیا گیا۔
پیشی سے قبل وزیراعظم کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاناما میں نام نہ ہونے کے باوجود جے آئی ٹی کے بلانے پر پیش ہوئےہیں،جبکہ قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کو جے آئی ٹی سے متعلق فی الوقت کوئی تحفظات نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے بھی بات کریں گے جس کے لیے جوڈیشل اکیڈمی کے باہر بلٹ پروف ڈائس لگایا گیا تھا تاہم بعد میں اس کی جگہ لکڑی کا ڈائس لگادیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلٹ پروف ڈائس بڑا تھا اس لئےہٹایا گیا۔
وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر میڈیا کے لیے شفا اسپتال کے قریب الگ جگہ مختص کی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف آج تمام دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہیں گےجبکہ جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے واقع پارک بھی بند کر دیا گیاہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY