رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم ال قدس ۔ صفدر ھمٰدانی

0
227

رمضان المبارک کے آخری جمعے کے موقع پر عالم اسلام کے بیشتر ممالک ‘‘یوم القدس‘‘ مناتے ہیں، مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس کا دن، جو صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ ایران کے انقلابی رہنما امام خمینی نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس قراردیا تھا اور اس کامقصد فلسطین کی مظلوم قوم کا دفاع اور صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرنا ہے۔اس دن دنیا بھر میں مظاہروں و احتجاج کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کا اعادہ کیا جاتا ہے اس بار بھی 2017کے رمضان المبارک آخری جمعے کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں دنیا بھر میں عالمی یوم القدس منایا جا رہا ہے۔ ایران میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس قراردیا ہے اور اس کامقصد فلسطین کی مظلوم قوم کا دفاع اور صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرنا ہے ۔ اس دن ساری دنیا میں روزہ دارمسلمان احتجاج مظاہرے کرکے ملت فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرنام پر ہیکل سلہیمانی کی تعمیر کے لیے صیہونی و صلیبی منصوبے پر عمل در آمد میں پیش رفت جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تہران،کابل ، بغداد ، القدس اور اسلام آباد اس وقت تاریخی سازشوں کا شکار ہیں ۔ اگر کابل اور بغداد میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں تو القدس اور اسلام آباد میں مسلمانوں کے مقدس مقامات گرائے جارہے ہیں اور ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی سازشیں تیار کی جارہی ہیں۔ ایک تاریخی اور مسلمانوں کی شناخت مسجد کو ختم کیا جارہا ہے اور مسجد بھی کون سی ! ایک مسجد آزاد فلسطینی ریاست القدس کی مسجد ہے جس کا تذکرہ کلام الٰہی میں موجود ہے جو فضیلت اور بزرگی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی بابرکت جگہ کا شرف رکھتی ہے ۔ جس میں امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کو تمام انبیاء کی امامت کرائی ، جس کے اطراف کو قرآن نے بابرکت کہا ۔ ان تمام واقعات کے پیچھے جس طرح یہودی صیہونیت کا ہاتھ ہے ، بعینہ اس طرح مسیحی صیہونیت کا بھی پورا پورا دخل ہے ۔ آئیے ذرا اس کا تاریخی پس منظر دیکھتے ہیں ۔ اس سے قبل کہ ہم 1969 میں مسجد اقصٰی کو نذر آتش کرنے کے واقعے کا ذکر کریں ، جس میں مسجد کا 1500 مربع میٹر مکمل طورپر جل گیا تھا اور ساتھ ساتھ مسجد میں موجود منبر جو منبر صلاح کے نام سے مشہور ہے ، جل گیا تھا ۔ یہ واقعہ کیوں رونما ہوا اور وہ کون تھا جو اس واقعہ کی پشت پر تھا ؟ بظاہر تو بہت آسانی کے ساتھ کہہ دیا جاتا ہے کہ مسجد کو جلانے والا شخص آسٹریلین نژاد اسرائیلی مائیکل روہین تھا جس نے یہ ناپاک حرکت کی ۔ مگر مائیکل روہین نہ تو اسرائیلی تھا اور نہ یہودی ، بلکہ صیہونی عیسائی تھا اور وہ آسٹریلیا سے صرف اور صرف اسی کام کے لیے آیا تھا ۔ صیہونی عیسائیوں اور دیگر عیسائیوں میں یہ فرق ہے کہ یہ لوگ نزول مسیح پر ایمان رکھتے ہیں مگر کچھ شرائط کے ساتھ ،جس میں ایک شرط یہ کہ جب تک ہیکل سلیمانی کا قیام نہیں ہوتا اس وقت تک حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول نہیں ہوگا ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسجد کو گرا دیا جائے ۔ گزشتہ تین چار عشروں سے مسجد اقصٰی کو گرانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں ہیں ۔ آگ لگادی گئی ، بم باری ہوئی اور ڈائنا مائٹ کا استعمال بھی ہوا ۔ مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسجد ختم ہو جائے اور ایک لاوا پھوٹ نکلے اور ایک نئی عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے ۔ کیوں کہ صیہونی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک دنیا کے افق پر دو قوموں کےمابین سخت معرکہ نہ ہو ۔ اور اس تنظیم کا عقیدہ ہے کہ اس جنگ کا میدن القدس سے لے کر وادی عسقلان تک کے علاقے پر مشتمل ہے جو بحر متوسط کے قریب ہے اور یہ اس جنگ کو ” ہرمجدون ” کے نام سے پکارتے ہں ۔ اس لیے اس تنظیم کے اپنے سیاسی ، اقتصادی اور عسکری مقاصد ہیں ،جن کو وہ پورا کرنے کے لیے محنت شاقہ کر رہی ہے ۔ نزول مسیح کے لیے بنیادی شرائط ہیں
1. اسرائیل کا قیام جو 1948 ء میں ہوا اور امریکہ نے اس کے قیام کے صرف ایک منٹ بعد ہی اسے تسلیم کر لیا 2. مسجد اقصٰی پر اسرائیلی قبضہ ،اور یہ بھی 1967 میں ہوا جو اسرائیلی فوجوں نے حاصل کیا ۔اس سے قبل برطانیہ سے آزادی کرنے کے بعد 1949 میں القدس شہر کا آدھا حصہ اردن کے پاس اور آدھا اسرائیل کےپاس تھا لیکن 1967 کے جنگ میں اسرائیل نے باقی شہر پر بھی قبضہ کر لیا اور ساتھ ہی مسجد اقصٰی کو بھی اپنے کنڑول میں لے لیا 3. مسجد کی جگہ پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔ یہاں سمجھنے کی یہ بات ہے کہ یہ حقیقت کہ انتہا پسند یہودی تنظیمیں بھی ہیکل سلیمانی کی تعمیرکو ایمان کا حصہ سمجھتی ہیں اور اس وقت یروشلم میں کل 24 تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ بظاہر ان یہودی صیہونیوں اور عیسائی صیہونیوں میں فرق ہے ، کیونکہ یہودی صیہونی نزول مسیح پر ایمان نہیں رکھتے ۔ وہ تو بعثت اولٰٰی کے بھی قائل نہیں ہیں ، تاہم اس کے باوجود ان کے مابین قدر مشترک یہ ہے کہ وہ ” صیہون” یعنی ( صیہونی ریاست ) کو قائم کریں گے ۔ اصل میں صیہونی ریاست کا قیام یہودیوں کے لیے ” ہدف بالذات ” ہے جبکہ عیسائی صیہونیوں کے لے نزول مسیح سے مشروط ہے ۔ مسیحی صیہونیت جس کی سربراہی عیسائی پادریوں کے ہاتھ میں ہے اور ان کے مرکز امریکہ میں ہے جہاں وہ تمام کاروائیوں کو مانیٹر کر رہے ہو تے ہیں ۔ رپورٹوں کے مطابق ان کی کل تعداد 70 ملین افراد پر مشتمل ہے ۔
اس ضمن میں جو مشہور نام ہیں ان میں جیری فالویل ، پیٹ روبرٹسن ، فرینکلن گراہم وغیرہ ہیں ۔ امریکہ اور دنیا بھر میں ان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر قبضہ ہے اور دنیا بھر میں مختلف این جی اوز ہسپتالوں میں کا م کر رہی ہیں ۔9/11 کے بعد یہ تنظیم بہت زیادہ سرگرم ہوئی ۔ اس نے عراق ، افغانستان اور مشرق وسطٰی کے معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت شروع کر دی ۔انہوں نے پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے بیت المقدس کے لیے سفارت کاری شروع کی ہوئی ہے اور امریکہ اور دنیا بھر میں اس کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے ۔ بیت المقدس کے قریب یہودی بستیوں کے قیام اور وہاں پر زمینوں کی خرید میں اس سفارت کار عملے کا بہت بڑا دخل ہے ۔ 1969 میں شروع ہونے والی سازشیں تاحال جاری ہیں ۔
گزشتہ چار عشروں میں مسجد اقصٰی کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں ہوا ۔
تمام تاریخی آثار لو ٹ لیے گئے ، اسلامی ثقافتی آثار ختم کر دیے گئے ، مسجد اقصٰی کے قریب مسلمانوں کی بستیاں ختم کر دی گئیں ، مسجد کے صحن میں بار بار خنزیر کا سر کا ٹ کر پھینکا گیا ۔ مسجد کے صحن میں مسلمانوں پر گولیاں چلائی گئیں ۔ 1990 میں اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصٰی کے صحن میں نمازیوں پر وحشیانہ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 20 مسلمان شہید ہوئے ۔اسرائیل اور صیہونی قوتوں کا بنیادی مقصد تو پوری مسجد کو ختم کرنا ہے ،مگر ماضی قریب میں مسجد اقصٰی کے خلاف جتنی بھی سازشیں ہوئی ہیں ۔ ان میں اکثر باب المغاربہ اور باب المغاربہ کے بالکل قریب مسجد کے مغربی دروازے کی سمت کو نشانہ بنایا گیا ۔
ویسے تو پوری مسجد اقصٰی معتبر اور مقدس ہے ۔ مگرباب المغاربہ اور اس کے قریب دیوار براق کی خاص اہمیت ہے ۔
باب المغاربہ جس دروازے سے حضور اکرم شب معراج کو مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے تھے ، اسی مناسبت سے اس کو باب الانبیاء بھی کہا جاتا ہے اور اس کے قریب وہ دیوار ہے جس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری براق جس کو جنت کی سواری بھی کہا جاتا ہے باندھی تھی۔ اس وقت جو انہدا3می کاروائی شروع ہوئی ہے وہ بھی بعینہ اسی مقام کے گرد شروع ہے اور اس کا پس منظر بالکل واضح ہے کہ جب سے امریکہ نے مشرق وسطٰی کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا ، کچھ عرصہ قبل ایک اسرائیلی اخبار نے خبر دی کہ اسرائیلی حکومت مسجد اقصٰی کےمغربی دروازے کے قریب سلوان کے مقام پر دس میٹر تک کھدائی کرے گی اور یہ راستہ دیواربراق کی طرف جاتا ہے (ہارلس 24 جنوری 2007 ) اب جب کہ اسرائیل نے مسجد اقصٰی کے گرد باب المغاربہ کے قریب پل کو منہدم کر دیا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نے خبر دار کیا ہے کہ اس کارروائی کو مزید جاری رکھا جائے گا ، امریکہ کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے ، کیونکہ ان اضطراری حالات میں جب مسلمانوں کے دل پر اسرائیل نے خنجر گھونپ دیا ہے ، امریکی وفد کیوں نہیں آیا ؟ اور کیوں اسرائیل کے ہاتھ نہیں روکے گئے ؟
اسی یوم القدس کے حوالے سے آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ عالمی یوم قدس مسلمان قوموں کے لۓ یوم استقامت اور صیہونیوں اور ان کے حامیوں کے ظلم و بے انصافی کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرنے کا دن ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہان کہیں بھی مسلمان ہیں یہ دن مناتے ہیں اور ایران کی عظیم قوم بھی خدا کے فضل و کرم سے ہرسال کی طرح اس سال بھی یہ دن مناتی ہے۔
تہران کی مرکزی نماز جمعہ میں قائد انقلاب اسلامی نے روزہ دار ومومن نمازیوں کے عظیم مجمع سے خطاب میں علاقے کے حقائق کو توڑمڑوڑ کرپیش کرنے اور فلسطین و عراق میں عوام کو ایک دوسرےکے مقابل صف آرا کرنے کی امریکی اور صیہونی سازشوں کی وضاحت کی آپ نے فرمایا کہ عالمی یوم قدس ان تفرقہ انگیزسازشوں کے مقابل امت اسلامی کے لۓ صدائ احتجاج بلند کرنے اور مزاحمت کرنے کا دن ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آے دن فلسطینی باشندوں کے قتل عام اور حماس کی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو بھی امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اپنی شکست کا تدارک کرنے کی کوشش قراردیا اور انتباہ دیا کہ صیہونی اور ان کے حامی فلسطین کے حقائق یعنی جارحین کے خلاف فلسطینی قوم کی استقامت کو فلسطینوں کی داخلی جنگ میں تبدیل کرنے کی سازش کررہے ہیں آپ نے فرمایا تمام اسلامی قوموں کو ان سازشوں کے مقابل ہوشیارھنا چاہیے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے آج عالم اسلام کی اہم تریں ضرورت اتحاد ہے اور امریکہ عراق میں بھی عوامی گروہوں کو ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کرنے کی کوشش کررہا ہے ،آپ نے فرمایا کہ اسلام کے د شمن بالخصوص لبنان میں شکست کھانے کے بعد دھشتگردوں کی حمایت کرکے عوام کے درمیان خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوادینے کی کوشش کررہے ہیں اسی طرح عراق میں لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرکے عراق کی موجودہ صورتحال یعنی جارحین کے خلاف عوامی جدوجھد کو عوام کے خلاف عوام کی لڑائي میں تبدیل کردیں ،آپ نے فرمایا کہ انگریز تفرقہ انگيزشازشوں میں ماہر ہیں اور انہوں نے امریکہ کو بھی اس کی تعلیم دے دی ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ عراق میں شیعہ سنی صدیوں سے آپس میں پرامن زندگی گذاررہے تھے اوراب بھی اتحاد و یکجھتی کے ساتھ جارحين کا مقابلہ کررہے ہیں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی اور صیہونی ذرایع ابلاغ میں ھلال شیعہ کے بارے میں پروّگینڈے اھل تشیع کے حصول اقتدارسے اھل سنت کوڈرانے کے لۓ کۓ جارےہیں آپ نے کہا دشمنان اسلام یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایران کوبھی ہمسایہ ملکوں سے خطرے لاحق ہیں تاکہ امت اسلامی میں تفرقہ انگيز پالیسیوں کو آگے بڑھاسکیں ۔
قا‏ئد انقلاب اسلامی نے تمام اسلامی قوموں کی بیداری و ہوشیاری پر تاکید فرماتے ہوۓ کہا کہ اگر اسلامی امت کو گذشتہ چند برسوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کوجاری رکھنا ہے تو اسے دشمنوں کی سازشوں کے مقابل بھرپور طرح سے ایسے ہوشیاررہنا ہوگا جیسے کہ ایرانی عوام و حکام داخلی سطح پر تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد بیرونی سطح پر بھی اپنی تمامتر کوشیش کرتے ہیں تاکہ دشمنان اسلام اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہوجائيں ۔
قا‏‏ئد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں گفتگوکرتے ہوے کہا کہ آپ ایک کامل انسان و مسلمان تھے اور آپ کی ذات اقدس تمام انسانوں کے لۓ نمونہ عمل ہے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام نے دامن رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تربیت پائي تھی اور رسول اسلام کے قریبی ترین افراد میں شمارہوتے تھے اور آپ سخت تریں حالات میں بھی ہمیشہ اسلام اور اس کے رسول کی حمایت کرنے میں پیش پیش رہاکرتے تھے

اشاعت مکرر

SHARE

LEAVE A REPLY