متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے قطر کو مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے اور کہا ہے کہ قطر اگر ان مطالبات کو پورا کردیتا ہے تو خلیجی ممالک اور مصر اس کا بائیکاٹ ختم کردیں گے۔
العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق قطر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے اور جن شخصیات کے نام دہشت گردوں یا ناپسندیدہ افراد کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہیں،ان کو اپنے ہاں پناہ دینے سے باز آجائے۔
انور قرقاش نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قطر تعلقات کی بحالی چاہتا ہے تو وہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے فیصلوں کی پاسداری کرے ۔ وہ شام اور لیبیا میں انتہا پسند اور دہشت گردتحریکوں کی مالی معاونت بند کردے اور ناپسندیدہ شخصیات کی میزبانی سے بھی دستبردار ہوجائے۔
انھوں نے کہا کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے 2014ء میں الریاض سمجھوتے پر دست خط کیے تھے تو اس کا یہ مطلب تھا کہ وہ اپنے والد کی پالیسیوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔بالخصوص سابق امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے ساتھ سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کی ایک سازش میں بھی ملوث پائے گئے تھے اور اس کا انکشاف منظر عام پر آنے والی آڈیو ٹیپس سے ہوا تھا۔
انور قرقاش نے عراق میں یرغمال بنائے گئے قطریوں کی بازیابی کے لیے تاوان کے طور پر ادا کردہ بھاری رقوم کے بارے میں بھی سوال اٹھایا ہے۔یہ رقم بعد میں مبینہ طور پر شیعہ اور سنی دہشت گرد گروپوں میں تقسیم کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر قطر اپنی پالیسیوں سے ناتا توڑ دیتا ہے تو پھر ہی ’’طلاق‘‘ واقع ہوگی۔بصورت دیگر اگر اس کے ہوائی اڈے دنیا کے لیے کھلے بھی رہتے ہیں تو وہ اپنے اردگرد کے ممالک سے الگ تھلگ ہی رہے گا‘‘

SHARE

LEAVE A REPLY