امریکا کی اقوام متحدہ میں سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر بحران کے معاملے میں دوحہ کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی مالی امداد کو روکنے کو ترجیح دی ہے۔
بدھ کے روز امریکی خارجہ امور کمیٹی کی ایک میٹنگ میں بات کرتے ہوئے امریکی خاتون سفیر کا کہنا تھا کہ “اس بحران کے نتیجے میں ایک بہترین موقع پیدا ہوا ہے کہ دوحہ پر دبائو ڈال کر ‘ایسے’ گروپوں کی حمایت ختم کی جائے اور دوحہ کو مطلع کیا جائے کہ وہ ان گروپوں کی مالی امداد ختم کردے جن کو امریکا خطے میں سرگرم نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر میں امریکی فوجی اڈہ موجود ہے مگر صدر ٹرمپ اس وقت تمام تر توجہ داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مرکوز کر رکھی ہے۔
اخوان المسلمون کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ “امریکی انتظامیہ سے اخوان المسلمون کے مشرق وسطیٰ میں کردار کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی ہے۔ میرے ذاتی خیال میں وہ جماعت خطے میں حل کی بجائے مسائل کا سبب بنتی ہے۔”

SHARE

LEAVE A REPLY