جے آئی ٹی کی تحقیقات اہم اور اختتامی مرحلے میں داخل

0
182

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک کاروباری معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات اہم اور اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئی۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جے آئی ٹی آئندہ ہفتے تک تحقیقات کا عمل مکمل کرلے گی جس کے بعد حتمی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرکے 10 جولائی تک سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کو جمع کرائی جائے گی۔

ہفتہ کے روز جے آئی ٹی نے اپنے اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے شریف خاندان کے کاروبار سے متعلق جمع کرائے گئے دستاویزات اور ٹیکس ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

اسی حوالے سے جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اراکین کو ایک بار پھر طلب کیا ہے۔

وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع 2 جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرف دور کے نیب چیئرمین جے آئی ٹی میں پیش

ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق شفیع سے ان کے جے آئی ٹی کو پہلے ریکارڈ کرائے گئے بیان سے متعلق دوبارہ پوچھ گچھ کی جائے گی۔

3 جولائی وزیر اعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو چھوٹے بیٹے حسن نواز اور بیٹی مریم نواز پیش ہوں گے۔

ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ جے آئی ٹی ارکان نے شریف خاندان کے ممبران کے پہلے ریکارڈ کرائے گئے بیانات اور حکومتی اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں تضاد سامنے آنے پر انہیں دوبارہ طلب کیا ہے۔

پاناما پییر کیس اور جے آئی ٹی کی تشکیل
رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: چیئرمین ایس ای سی پی نے جے آئی ٹی کےسامنے مطلوبہ ریکارڈ پیش کردیا

اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے واضح کیا ہے کہ پاناما لیکس کی انکوائری کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے بعد عدالت جو بھی فیصلہ دے گی ان کی جماعت اُسے ہر صورت تسلیم کرے گی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘دوسرا رُخ’ میں گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ فیصلوں پر عملدرآمد سیاسی جماعتیں نہیں، بلکہ یہ کام ادارے کرواتے ہیں جوکہ ریاست کا اہم ترین حصہ ہیں۔

انھوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے حالیہ بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کیسے کیسی فیصلے پر خود سے عملدرآمد کرواسکتے ہیں، لہذا اس معاملے میں ہم کسی قسم کی خانہ جنگی نہیں چاہتے اور جو بھی فیصلہ آیا ہم اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں اداروں پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، جبکہ جے آئی ٹی کو بھی چاہیے کہ وہ صرف معاملے کی تحقیقات کرے، جس کا سپریم کورٹ نے اسے اختیار دیا ہے’۔

مزید پڑھیں: پاناما جے آئی ٹی کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل

لیگی رہنما نے ایک مرتبہ پھر جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنی جماعت کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت تحقیقات پاناما لیکس کی نہیں، بلکہ شریف خاندان کے کاروبار کی ہورہی ہے، لہذا اگر ثبوت تلاش کرنے ہیں تو اس ٹیم کو ممالک جانا چاہیے جہاں پر دولت کو لے جانے کا الزام ہم پر عائد کیا گیا’۔

میاں جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک منتخب وزیراعظم ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک اداروں پر دباؤ ڈال کر فیصلے کو اپنے حق میں کیا جائے، اس چیز کی ہم نے پہلے بھی مخالفت کی اور اب بھی کرتے ہیں۔

اس سوال پر کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ دباؤ کس کی طرف سے ڈالا جارہا ہے تو انھوں نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے خود کہا ہے کہ وہ یہ ڈباؤ نہ ڈالتے تو پاناما لیکس کا معاملہ ماضی کا حصہ بن جاتا، لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ ایسا کرنا ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک کاروباری معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات اب اہم اور اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ جے آئی ٹی آئندہ ہفتے تک تحقیقات کا عمل مکمل کرلے گی جس کے بعد حتمی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرکے 10 جولائی تک سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کو جمع کرائی جائے گی۔

اسی حوالے سے جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اراکین کو ایک بار پھر طلب کیا ہے۔

وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع 2 جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق شفیع سے ان کے جے آئی ٹی کو پہلے ریکارڈ کرائے گئے بیان سے متعلق دوبارہ پوچھ گچھ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما جے آئی ٹی: وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز طلب

3 جولائی وزیر اعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو چھوٹے بیٹے حسن نواز اور بیٹی مریم نواز پیش ہوں گے۔

یاد رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY