افغانستان کے علاقے ہلمند میں افغان فوج کے قافلے پر طالبان کے خود کش حملے میں کم ازکم 13 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کو ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمرزواک نے بتایا کہ ‘افغان نیشنل آرمی کا وفد صوبے کے ضلع نوا کی ایک چھوٹی مارکیٹ سے گزر رہا تھا کہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری ہوئی کار کو اڑا دی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک افراد میں فوجیوں کے علاوہ عام افراد بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
جائے وقوعہ کے قریب ہسپتال میں کام کرنے والے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ 15 لاشوں کو ہسپتال لایا گیا ہے اور 19 دیگر زخمیوں کو بھی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘ہلاک افراد میں اکثریت افغان فوجیوں کی ہے اور زخمیوں میں اکثریت عام افراد کی ہے’۔
طالبان کی جانب سے صحافیوں کو وٹس اپ کےذریعے بھیجے پیغام میں واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہلمند میں 23 اگست کو طالبان کے ایک خود کش حملے میں 5 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عمر زواک کا کہنا تھا کہ ’لشکر گاہ کے علاقے میں قائم پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب ایک پارکنگ میں بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا گیا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔
رواں سال جون میں کابل میں کاربم دھماکے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی خونریز کاررائیاں جاری ہیں۔












