قطر کی حکومت سعودی عرب سمیت چار ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بعد پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک کمیٹی بنا رہی ہے۔

قطری پراسیکیوٹر علی المری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کمپنیوں، سرکاری اداروں اور انفرادی طور پر نقصان اٹھانے والے معاملات کو دیکھے گی اور تفصیلات حاصل کرنے کے بعد قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی داخلی طور پر اور بین الاقوامی دونوں پہلووں سے زرتلافی کے طریقہ کار کو استعمال کرے گی۔

تشکیل دی گئی نئی کمیٹی میں قطر کے وزیر انصاف اور خارجہ امور کے وزیر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 5 جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر، مالدیپ سمیت چند ممالک نے قطر پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام دیتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب سمیت 6 ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے
قطر سےتعلق منقطع کرنے والے تمام ممالک نے اپنی سرحدوں کو بند کرتے ہوئے قطری باشندوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔

سعودی عرب کی جانب سے سرحد کو بند کرنے کےبعد خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ قطر میں کھانے پینے کی اشیا کا بحران پیداہو سکتا ہے کیونکہ قطر کی جانب سے اشیا خوردونوش سعودی عرب سے برآمد کی جاتی تھیں۔

کویت اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں کی گئی تھیں جس کےبعد عرب ممالک نے 13 مطالبات پیش کیے تھے جس میں قطر سے کہا گیا تھا کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کو بند کرے، ترکی کے فوجی بیس کو ختم کرنے اور ایران سے تعلقات منقطع کرے۔

قطر نے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY