برطانوی حکومت نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظرزیادہ لوگوں کو کوروناویکسین لگانے کیلئے خوراکوں کادرمیانی وقفہ بڑھانے کافیصلہ کیا ہے،اب پہلی ڈوز کے12ہفتوں بعددوسری ڈوزلگائی جائے گی ۔طبی حکام کاکہنا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک سے ہی وائرس کے خلاف زبردست مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جب کہ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ دوسری خوراک کی بکنگ منسوخ کرنا سراسر غیر منصفانہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں نمایاں تیزی آنے کے بعد حکومت نے ویکسین لگانے کے درمیان وقفہ کے حوالے سے حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ جس کے تحت اب دستیاب دونوں ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک میں12ہفتوں کا وقفہ دیا جائے گا۔ اس سے قبل فائزر بائیوٹیک ویکسین کی دوسری خوراک کو تین ہفتوں کے بعد د ینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ا یشن نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری خوراک کے لیے طے شدہ بکنگ کو منسوخ کرنا سراسر غیر منصفانہ ہوگا،
جس سے عملے کا بہت وقت ضائع ہوگا، جبکہ برطانیہ کے چاروں چیف میڈیکل آفیسرز نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانا زیادہ اہم ہے۔ فائزر بائیوٹیک ویکسین کو سب سے پہلے برطانیہ نے منظور کیا تھا اور اسے اب تک9 لاکھ 44ہزار539افراد کو لگایا جاچکا ہے۔ 8دسمبر کو ویکسین کی پہلی خوراک مارگریٹ کینن کو دی گئی تھی، اسے دوسری خوراک بھی دے دی گئی ہے۔ فائزر کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی افادیت کا تجزیہ اس وقت کیا گیا جب اسے21دن کے وقفہ کے بعد دیا گیا، تاہم چیف میڈیکل آفیسر انگلینڈ کرس وٹی کا کہنا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک سے ہی وائرس کے خلاف زبردست مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی دوسری خوراک تحفظ کے دورانیے کے لیے اہم ثابت ہوگی اور خوراکوں کے درمیان مناسب وقفے سے ویکسین کی افادیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ مختصر مدت کے دوران دوسری خوراک دینے سے ویکسین کی افادیت میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔ تاہم پہلی خوراک کے بعد ہی بڑی حد تک وائرس کے خلاف تحفظ مل جاتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں وائرس کی نئی قسم دریافت ہونے کے بعد ہر گزرے دن کے ساتھ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور جمعرات کو بھی55ہزار892افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ964افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ نیو ایئر کے موقع پر لندن میں ہونے والے فائر ورکس کے ذریعے بھی این ایچ ایس کے ورکرز کی قربانیوں کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا، لندن کی8کونسلوں کے لیڈرز نے حکومت سے پرائمری سکولوں کو کھولنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان کے علاقوں میں انفیکشن کی شرح بہت بلند ہے۔ تاہم وزرا کا کہنا تھا کہ سکولوں کا کھولنا حکومت کی ترجیح ہے۔ گزشتہ ہفتہ بدھ کو مقامی سطح پر تیار ہونے والی آکسفورڈ آسٹرا نے پنیکا ویکسین کی دستیابی کے باوجود ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کو دوسری خوراک دینے کے لیے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی حکمت عملی کا فائدہ یہ ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک زیادہ لوگوں کو دی جاسکے گی۔ ماہرین بشمول جوائنٹ کمیٹی آف ویکسی نیشن اینڈ ایمیونائزیشن کا کہنا ہے کہ دونوں میں سے جو ویکسین بھی پہلے دستیاب ہو، وہ زیادہ ضرورت مند افراد کو لگا جائے، ملک کے چاروں میڈیکل آفیسرز نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت آئندہ تین سے چار ماہ میں لاکھوں افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ دوسری خوراک کے لیے دوبارہ وقت طے کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ ویکسین کی دوسری خوراک کے منتظر افراد کو اس سے کچھ پریشانی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ویکسین ایک ہزار افراد کو دی جاچکی ہے تو بجائے انہیں دوسری خوراک دینے سے زیادہ لوگ محفوظ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً ایک ملین افراد کو ویکسین دی جاچکی ہے، جبکہ ترجیحی بنیادوں پر جن افراد کو ویکسین دی جانی ہے ان کی تعداد تقریباً30ملین ہے۔ جن میں ہیلتھ اور سوشل میئر ورکرز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی خوراکوں کے درمیان12ہفتوں کا وقفہ مناسب ہے۔ اس سے ’’طویل مدت کے لیے تحفظ‘‘ حاصل ہوگا۔












