آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک میں داخلی سلامتی کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے،ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والےعناصر کو شکست دی جا چکی ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایف پی سی سی آئی کے تعاون سے کراچی میں معیشت اور سلامتی کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کیا، جس میں پاکستان بھر سے تاجروں کی کثیر تعداد شریک تھی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت اور افغانستان کو تعلقات بہتر بنانے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مشرق اور مغرب میں اپنے ہمسایہ ملکوں کو پرخلوص پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا مقدر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمارا خطہ ڈوبے گا تو اکٹھے ڈوبے گا، اس کی کشتی رواں ہو گی تو اکٹھے رواں ہوگی، بھارت کے ساتھ نارمل اور پرامن تعلقات کی خواہش ہے لیکن تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے ۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ جب تک عدم اعتماد کی دوطرفہ فضا دور نہیں ہوگی امن و معاشی استحکام کی راہوں پر اکٹھے سفر نہیں کر سکتے ۔
انہوں نے بزنس کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اللہ کراچی ہمیشہ محفوظ و مامون رہے گا، اس لیے گیند اب آپ کے کورٹ میں ہے۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت ہے اور ہمارے محصولات کا بڑا حصہ یہیں سے حاصل ہوتا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ ہمارے دشمن جب پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ کراچی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جب کراچی کا خون بہتا ہے تو پاکستان کا خون بہتا ہے،اسی حساسیت کی وجہ سے یہاں قیامِ امن ہماری پہلی ترجیح ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہاں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوں گی۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ سیکیورٹی اور معیشت کا اہم تعلق ہے، نیشنل ایکشن پلان پرجامع کوششوں کی ضرورت ہے، سی پیک پاکستان کے عوام کا مستقبل اور اہم قومی اثاثہ ہے، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قیام امن اور استحکام ہم سب کے مفاد میں ہے، افواج پاکستان نے اپنا کام کر دیا ہے، معاشی بہتری ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، معیشت زندگی کے ہر پہلو پراثراندارہوتی ہے۔
آرمی چیف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ امیدکرتاہوں سیمینارکےنتائج سےمتعلقہ فریقین استفادہ کریں گےسیکیورٹی اور معیشت کا اہم تعلق ہوتاہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا ہے کہ سویت یونین کمزوراقتصادی حالت کی وجہ سے ٹکڑے ہوا، بہتر سیکیورٹی نہ ہونےکےباعث امیرملک بھی جارحیت کاشکارہوتےہیں۔
آرمی چیف کا مزید کہنا ہے کہ دنیامیں قومی سلامتی اور معاشی استحکام میں توازن کےحصول پرتوجہ مرکوزہے،قومی لائحہ عمل پرعمل درآمد کےلیےجامع کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سےکثیرالجہتی چیلنجز سےنبردآزماہے،نیشنل ایکشن پلان پرجامع کوششوں کی ضرورت ہے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنےوالےعناصرکوشکست دی جاچکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY