پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے پارٹی کے تاحیات قائد نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق انٹرویو پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
شہباز شریف کی زیرِ صدارت حکمراں جماعت کی پارلیمانی ارکان کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبئی حملے سے متعلق نواز شریف کا بیان زیرِ بحث رہا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نواز شریف کے انٹرویو پر عاشق گوپانگ، عبدالرحمٰن کانجو اور شفقت بلوچ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِاعظم کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا بہت زیادہ اچھال رہا ہے۔
اراکین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مودی کا جو یار ہے غدار ہے‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ جس نے نواز شریف کا انٹرویو کروایا وہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جلد آپ کو نواز شریف کے موقف میں نرمی نظر آئے گی کیونکہ ان سے زیادہ مُحبِ وطن پاکستانی کوئی نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پارلیمانی اراکین کو یقین دہانی کروائی کہ وہ نوازشریف کو قائل کریں گے کہ وہ حساس معاملات پر گفتگو سے قبل پارٹی سے مشاورت کیا کریں۔
علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکینِ اسمبلی مسرت زیب اور سراج محمد نے بھی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔












