سی ٹی ڈی نے کراچی میں پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے انتظار احمد کی ہلاکت کا معاملہ مشکوک قرار دے دیا، پولیس اور حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ جس انداز میں انتظار احمد کی گاڑی کو روکاگیا، وہ بہت مشکوک ہے، یوں لگ رہا ہے جیسے انتظار کو اغوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہو، روکنے والی پولیس پارٹی میں کوئی بھی اہلکار یونیفارم میں نہیں تھا، فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کے زیر استعمال گاڑیاں سرکاری نہیں، بلکہ نجی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس پارٹی نے قواعد اور تحریری حکم ناموں کی کھلی خلاف ورزی کی، معاملے کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے اسی لئے جے آئی ٹی بنادی گئی ہے۔

انتظار احمد قتل کیس کے تفتیشی افسر عامر فاروقی نے بتایا کہ جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ مقتول انتظار احمد کے والد کی مشاورت سے کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی میں پولیس، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے، جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس جمعے کی صبح گیارہ بجے ایس ایس پی سی ٹی ڈی کے دفتر میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی جائزہ لے گی کہ کیس میں ایس ایس پی مقدر حیدر کا کردار ہے یا نہیں؟انتظار پر پہلے بلال اور پھر دانیال نامی اہلکار نے فائرنگ کی، دونوں اہلکار اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد، کسی کو اطلاع دیئے بغیر موقع پر پہنچے اور اپنے طور پر فائرنگ کردی، انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اور دونوں موقع پر کیا کررہے تھے، ان پہلوؤں کا پتا چلایا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY