پاکستان ایران گیس پائپ لائن: اسلام آباد اس بحران کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرے گا یا نہیں؟

0
1129

پاکستان اور ایران میں ادھورے گیس پائپ لائن منصوبے پر تازہ ترین تنازعہ نے جہاں پاکستان کے توانائی کے بحران پر مزید توجہ مرکوز کی ہے وہیں بین الاقو امی امور کے ماہرین اسے اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک اہم موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

تقریباً پندرہ سال قبل دو ہمسایہ ملکوں میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران نے اپنی سرزمین پر 2012 میں ہی 684 میل پائپ لائن بچھانے کا ڈھانچہ مکمل کر لیا تھا جبکہ پاکستان نے اپنے 485 میل کے حصے پر ابھی کام بھی شروع نہیں کیا ہے۔

اندازہ ہے کہ توانائی کے ذخائر سے مالا مال لیکن امریکی اور مغربی پابندیوں سے نبرد آزما ایران اس پائپ لائن کے ذریعہ 24 کروڑ آبادی کے پاکستان کو روزانہ 750 ملین سے 1 بلین کیوبک فٹ تک قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے۔

خبروں کے مطابق تہران نے اسلام آباد کو معاہدے کے طویل عرصہ سے التوا کا شکار ہونے پر پیرس کی عالمی ثالثی عدالت میں لے جانے کے ارادے سے متنبہ کیا ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق پاکستان پر اس منصوبے پر عمل درآمد نہ کرنے پر 18 ارب ڈالر تک کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے جرمانے کی اس رقم کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ اس تنازعہ کے قابل عمل حل کے لیے اسلام آباد تہران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر ملکوں کو ایران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی لین دین کے معاملے پر پابندیوں کے بارے میں خبر دار کیا ہے۔ ترجمان میتھیو ملر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی کے شعبے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی طرف سے پائپ لائن کے معاملے پر پس و پیش سے کام لینے کی وجوہات میں ایران کے ساتھ تجارت کے نتیجے میں ملکوں پر امریکی پابندیوں کے اطلاق کا خدشہ اور دباؤ ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسری وجوہات میں حکومتی عمل داری کے مسائل ، کئی حکومتوں کا پاکستان کے توانائی کے بحران کی شدت کو نظر انداز کرنا اور اندرونی عدم استحکام بھی شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY