جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری، وکیل پی ٹی آئی کے دلائل

0
54

جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر شریف فیملی کی جانب سے رپورٹ پر اعتراضات جمع کرادیئے گئے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق شریف فیملی کے وکلاء نے جے آئی ٹی رپورٹ اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے ہیں،درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اور اس رویہ غیر منصفانہ تھا۔
اسحاق ڈار نے سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی پر اعتراضات پر مبنی متفرق درخواست جمع کرادی جس میں رپورٹ کے مندرجات حقائق کے منافی، بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا ہے

وکیل پی ٹی آئی کے دلائل
نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری خط اور قطری کاروبار کی ورک شیٹ کو افسانہ قرار دیا ، جے آئی ٹی کے مطابق لندن فلیٹس شروع سے ہی شریف خاندان کے پاس ہیں،نوازشریف کاقطرسےمتعلق موقف تبدیل ہوتا رہا،وزیراعظم نےاسمبلی فلوراورقوم سے خطاب میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا۔
وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے لندن فلیٹس کو مریم نواز کی ملکیت قراردیا،جےآئی ٹی نےکہاکہ وراثتی تقسیم میں لندن فلیٹس کا کوئی تذکرہ نہیں۔بیریئرسرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں،ٹرسٹی ہونےکے لئے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیئررسرٹیفکیٹ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ تین رکنی بنچ نےفیصلہ کرنا ہے دو ججزنے جو فیصلہ دیا وہ درست تھا یا نہیں

سٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں قانونی حدود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، شہباز شریف جے آئی ٹی کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے، ان کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کے اطراف میں خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں۔ اس موقع پر 700 پولیس اہلکار سپریم کورٹ کے اطراف میں تعینات ہیں جبکہ رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی سپریم کورٹ کے اندر اور باہر موجود رہیں گے۔

سماعت کے موقع پر عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید، جماعت اسلامی کے سراج الحق اور مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت ،پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری ، مسلم لیگ ن کےراجہ ظفرالحق،عابد شیر علی، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY