ہائی کورٹ نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی نااہلی کیلئے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیاہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی، سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف عوامی عہدہ رکھنے کے ساتھ ذاتی کاروبار سے بھی منسلک رہے جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر بھی پورا نہیں اترتے۔

دوران سماعت بابر اعوان نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شہباز شریف نے نواز شریف کو 6 ارب روپے کے تحائف دیے لیکن اس رقم کا کسی منی ٹریل میں ذکر نہیں کیا جب کہ شہباز شریف نے خاندانی شوگر ملز کے لئے بھی اثر و رسوخ استعمال کیا۔
بابراعوان نے پاناما کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے مطابق شریف خاندان کے اثاثے آمدن سے مماثلت نہیں رکھتے۔

شاہد کریم کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے شہباز شریف نااہلی کیس میں درخواست کی قابل قبول ہونے یا نا ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نااہلی کے لئے درخواست دائر کی تھی

SHARE

LEAVE A REPLY