ہم نے گزشتہ قسط میں بیان کیا تھا کہ مہذب دنیا کا اصول ہے کہ وہ کسی کی چار دیواری کو عبور نہیں کرتے تاوقتیکہ وہاں کوئی غلط کام نہ ہورہا ہو۔ اور اس کے لیے بھی پولس پہلے عدالت کے سامنے پیش ہوکر ثبوت پیش کرتی ہے اور جب عدالت مطمعن ہو کر وارنٹ جاری کر دیتی ہے تب کہیں جاکر وہ گھر والوں کو اسے دکھا کر گھر میں داخل ہوتے ہیں ۔لہذا گھر وہ قلعہ ہے جہاں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ اس مضبوط قلعہ میں آپ اسلام کو پوری نافذ کر سکتے ہیں لہذا اللہ کے سامنے کوئی عذر کوئی معذرت نہیں چلے گی کہ ہم مجبور تھے۔ بشرط ِ کے آپ کی آوازیں گھر سے باہر نہ نکل رہی ہوں کیونکہ وہ دوسروں کے حقوق میں مداخلت بیجا ہوگی، جس کی یہاں کا قانون اجازت نہیں دیتا نتیجہ یہ ہوگا کہ پڑوسی پولس کو اطلاع کر دیں گے اور وہ فوراً پہونچ جا ئیگی۔ یہ قانون بھی اسلامی ہے چاہیں جہاں کہیں سے انہوں نے لیا ہو، جو موجود ہمارے یہاں بھی ہے لیکن ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کاا س سلسلہ میں قول یہ ہے کہ “ عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں اور ایمان کے بغیر عمل ، جبکہ اچھی باتیں تو برے آدمی بھی کیا کرتے ہیں “ لیکن قلعہ کے اندر بھی سارے لوگ ہم خیال نہ ہوں تو وہ دشمن کے لیے دروازہ کھولدیتے ہیں۔ دشمن سے میری مراد شیطان ہے جو کہ ہمارا ازلی د شمن ہے۔ اور وہ اپنی کار گذاریوں میں گھروں کے سکون تباہ کرنے کوا ولیت دیتا جو حضرت آدم اور حضرت حوّا کے واقعہ سے ثابت ہے۔آج کے دور میں اب وہ زمانہ نہں رہا کہ والدین بچوں کی شادی میں دخیل ہوں؟ ان کا صرف اتنا اختیار رہ گیا کہ بچے جو پسند کریں وہ مہرِ تصدیق لگادیں۔ لہذا بچے اس عمر کو پہونچیں تو انہیں چاہیے کہ بیوی اپنے شوہر میں تقوے کی نشانیاں تلاش کرے اور شوہر بیوی میں یہ ہی خوبیاں تلاش کرے۔ تاکہ آپ جس قلعہ کو بنا نے جارہے ہیں وہاں شیطان داخل ہی نہ ہوسکے۔

یہاں پھر میں وہی بات دہراؤنگا کہ اس مرحلہ پر ایک احتیاط ضروری ہے کہ کسی کے ظاہر پر نہ جائیں بلکہ انتخاب کرتے وقت عمل دیکھئے ۔ اگر یہاں ذراسی بھی لاپروائی یا جذباتیت کوجگہ دی۔ تو بھی نتائج خاطر خواہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ اگر پہلے سے شادی شدہ ہیں اور یہاں آ رہے ہیں ۔ اورا سوقت آپ نے گھر میں اصلا حات نافذ کرنے کا ارادہ کیا کہ باہر ماحول غیر اسلامی ہے اور انہیں کیسے بچایا جائے تو پھر آپ کی راہ میں بڑی مشکلات ہیں ۔ لیکن انسان چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا۔ کوشش شرط ہے ۔ مگر اس سمت میں آگے بڑھنے سے پہلے چونکہ شوہر اس قلعہ کا بادشاہ ہے اسے خود کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ہوگا اور اسے نرمی اختیا ر کرنا ہوگی۔وہ عادتیں چھوڑنا ہونگی جو وہاں آپ کی پختہ ہو چکی ہیں یہاں حضور (ص) کی وہ حدیث مشعل رہاہوگی کہ“ سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے ۔میں اپنے گھروالوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں“ ۔ یہاں وہ طریقہ نیہں چلے گا کہ میاں گھر میں آئے اور گھر والے ڈرسے کانپ رہے ہیں جو اکثر مسلمان ملکوں میں رائج ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں آکر بھی اگر وہی طریقہ اپنایا توچونکہ بات یہاں ہمیشہ بیوی کی سنی جاتی ہے ، یہاں حفظ ماتقدم کے طور پر شوہر کو پابند کرتے ہیں کہ گھر کے آس پاس نہ نظر آئے؟ پھر اکثر بات دائمی علیحدگی پر جاکرختم ہوتی ہے جبکہ شوہر کو ہمیشہ یہاں ظالم تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا اس کے لیے یہاں کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ میں ایک واقعہ سناتا ہوں کہ میں اسوقت منسٹری آف سوشیل سروسیز میں سنیر سٹیزن کونسلر تھا ایک صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے اپنا پورا جسم دکھایا جس پر چوٹ یاجلنے نشانات تھے۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کہ“ میری بیوی غصے کی بہت تیز ہے جو چیز اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ ہی اٹھکر ماردیتی ہے چاہیں گرم ہو چاہیں ٹھندی؟ پورے شہر میں میں میں نےٹیلیفون کیے مگر“ مردمظلوموں“ کے لیے کوئی پناہ گاہ نہ ملی جبکہ خواتین کے لیے وہ بے شمار ہیں کہ میں اس میں انہیں بھیجدیتا، شام کو ان کو یہ ہی مشورہ دینا پڑا کے اسی کےساتھ گزارا کرو ورنہ اس بڑھا پے میں گھر بھی جائےگا؟ یہ ہی حال بچوں کا ہےاگر بچے سولہ سال سے بڑے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ آپ کے اختیار سے باہر ہیں۔ اور اگر اٹھارہ کے ہوگئے تو پھر آپ کا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ جسمانی سزا کا ختیار بچپن میں بھی ولدین کو نہیں ہے۔ اگر وہ وہیں سے اسلام پر عامل ہوں تو اور بات ہے ورنہ انہیں یہاں لاکر آپ سے آسانی بدل نہیں سکتے ؟لہذا ہم نے دیکھا کہ جولوگ مزاجاً سخت تھے۔ ان سے ان کی بیویوں نے یہاں آکر طلاق لے لی بچے ان کے ساتھ رہ گئے اور شوہر خالی ہاتھ واپس چلے گئے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY