ترکی اور جرمنی کے مابین حالیہ کشیدگی میں انقرہ حکومت ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ترک وزیر داخلہ سلیمان سولن نے اپنے جرمن ہم منصب تھوماس ڈے میزیئر سے بات چیت کے دوران رابطہ کاری میں مسائل کی نشاندہی کی۔

اس موقع پر ترکی نے دہشت گردی میں تعاون کے تناظر میں ترتیب دی گئی اُس فہرست کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں سات سو جرمن کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔

ابھی کچھ دن قبل ہی جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے ترکی کے حوالے سے جرمن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY