داعش کے چنگل سے فرار ہونیوالی یزیدی لڑکی نے حیران کن انکشافات کر دیئے، عراق میں داعش کے ہاتھوں اغواء ہونے کے بعد اس لڑکی کو 180 مرتبہ سے: زیادہ داعش نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 14 سالہ اخلاص نے بتایا کہ وہ 6 ماہ تک داعش کی قید میں رہی جس کے دوران داعش کے جنگجو اسے روزانہ زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔
14 سالہ یزیدی لڑکی نے عراق کے شمال میں پہاڑوں پر چڑھ کر فرار ہونے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکی، داعش کی قید میں اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی، اخلاص کے مطابق وہ داعش کے ہاتھوں اغوا ء ہونیوالی 150 یزیدی لڑکیوں میں سے تھی جن کو جنسی حوس کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
یزیدی لڑکی نے بتایا کہ داعش کی قید میں 6 ماہ رہنے کے بعد ایک روز وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی، اسے پہلے پناہ گزینو کے کیمپ میں رکھا گیا اور پھر جرمنی منتقل کر دیا گیا جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے،اس نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ وکیل بننا چاہتی ہے۔













