چین اور ہندوستان کے درمیان سکم سیکٹر کا تنازع کشیدگی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چین کے متعدد مرتبہ انتباہ کے باوجود انڈین فوج اس متنازع علاقے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ جواباً چین نے ناصرف سکم سیکٹر کے قریب اصلی اسلحے سے جنگی مشقیں کیں بلکہ اپنی فوج بھی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ابھی حال ہی میں چین کے سرکاری روزنامے گلوبل ٹائمز میں
“Time for a second lesson for forgetful India”
کے عنوان سے ایک اداریہ چھپا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت ہماری حدود میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمارے صبر کو آزما رہا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے بھارت کو وارننگ دی کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو چینی فوجیں پاکستان کی خواہش اور ایماء پر بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں بھی داخل ہو سکتی ہیں۔

چینی اخبار نے لکھا ہے کہ انڈیا خام خیالی چھوڑ کر 1962ء کی جنگ میں ہونے والی شکست کو سامنے رکھے۔ خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ چینی فوجیں کئی کلومیٹر تک ہندوستانی حدود میں داخل ہو گئیں تھیں۔
گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا کہ چین اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیچھے انڈین سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کا دماغ ہے اور بھارتی یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ڈوول کے دورہ چین سے موجودہ تنازع کا حل نکل آئے گا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

اداریے میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے صرف اسی صورت پر بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے جب انڈین فوجیں اس متنازع علاقے سے نکل جائیں گی اور چین اپنی اس بات پر قائم رہے گا۔ چینی اخبار نے متنبہ کیا کہ اگر بھارتی سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول نے کسی قسم کی سودے بازی کی کوشش کی تو انڈیا کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگے گا۔ چین اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا۔ چینی اخبار نے لکھا کہ ہمارا بھارت سے چار گنا زیادہ ہمارا دفاعی بجٹ ہی صرف ہماری طاقت کا پیمانہ نہیں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY